''سعودی لاجسٹک معجزہ'' ہرمز کے اثرات سے محفوظ، عالمی سپلائی کی ترسیل دگنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی آمدورفت کے لیے بند کیے جانے کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا، کیونکہ یہ مشرقِ وسطیٰ سے دنیا بھر تک تیل اور سامان کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس اقدام کے باعث عالمی توانائی سپلائی متاثر ہوئی، تاہم سعودی عرب سپلائی چین بحران کے دوران ایک عالمی لاجسٹک مرکز بن کر سامنے آیا۔

ریاض نے شپنگ سیکٹر میں 5 نئے لاجسٹک راستے فعال کیے، جن کا مقصد مختلف ذرائع نقل و حمل کے درمیان بہتر انضمام پیدا کرنا ہے۔

یہ راستے خلیج عرب کے بندرگاہوں کو مملکت کے وسطی اور شمالی علاقوں سے جوڑتے ہوئے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں اور سعودی عرب کے شمال میں واقع ممالک تک پھیلتے ہیں۔



بری اور ریلوے نقل و حمل پر مشتمل کثیر جہتی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے سامان کی ترسیل کی رفتار اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ عرب صحرا سے گزرنے والے تیز رفتار بھاری ٹرکوں کے قافلے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا بن گئے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ نظام عالمی تجارت کو جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔عالمی سپلائی چین میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان کی شاہراہیں، ریلوے لائنیں اور بندرگاہیں ایک ہنگامی لاجسٹک شریان میں تبدیل ہوگئی ہیں، جو آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کا متبادل راستہ فراہم کر رہی ہیں۔

یہ صورتحال امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران مزید نمایاں ہوئی۔

تاریخی تجارتی راستوں کی بحالی

اسی تناظر میں شاہراہوں پر ٹرکوں کی بڑھتی آمدورفت نے خطے کے فیصلہ سازوں کو تاریخی تجارتی راستوں کی بحالی پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

اسی سلسلے میں سعودی عرب نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ترکی کے ساتھ ریلوے رابطے کے منصوبے کا مطالعہ رواں سال کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ ریلوے لائن اردن اور شام سے گزرتے ہوئے ترکی تک پہنچے گی، جس کا مقصد علاقائی انضمام کو مضبوط بنانا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔



سعودی لاجسٹک معجزہ

سعودی عرب نے بین الاقوامی تجارت کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے مؤثر اقدامات کیے، جن میں سب سے نمایاں خلیج عرب اور بحیرہ احمر کی مختلف بندرگاہوں سے منسلک 5 زمینی لاجسٹک راستوں کو فعال کرنا ہے۔

اسی پیش رفت پر کمپنی CRU کے تجزیہ کار پیٹر ہیریسن نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ اور خطے میں جنگی صورتحال کے باوجود تجارت اور توانائی کی سپلائی جاری رکھنے کے سعودی اقدامات کو ''سعودی لاجسٹک معجزہ'' قرار دیا۔ یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہی۔

آبنائے ہرمز سے جڑی صورتحال کے بعد سعودی کان کنی کمپنی ''معادن'' کے چیف ایگزیکٹو باب ولٹ نے اپنی کمپنی کے حکام کو بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی جانب روانہ کیا۔

صرف دو ہفتوں کے اندر وہ ٹرین اور ٹرک آپریٹرز کے ساتھ ایسا رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے ذریعے خلیج سے کھاد کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ تک منتقل کیا جانے لگا۔

باب ولٹ کے مطابق ہم نے ابتدا 600 ٹرکوں سے کی، پھر یہ تعداد 1600 ہوئی اور اب 3500 ٹرک چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں ٹرک مسلسل چل رہے ہیں اور تقریباً ہر ٹرک کے لیے الگ ڈرائیور موجود ہے۔

امریکی ریاست میری لینڈ میں پیدا ہونے والے ولٹ نے کہا کہ ''معادن'' مئی کے اختتام تک اپنی برآمدات میں پیدا ہونے والا بیک لاگ ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا:مجھے خود یقین نہیں آ رہا کہ ہم واقعی یہ سب کر پائیں گے یا نہیں۔

عالمی قلت کا ازالہ

معادن کے چیف ایگزیکٹو باب ولٹ نے کہا کہ یہ اقدام صرف برآمدات پر لگنے والی رکاوٹ کو توڑنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی سطح پر کھاد کی قلت کو پورا کرنے میں بھی براہِ راست کردار ادا کیا، جو عالمی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی۔

امریکی اخبار کے مطابق تجزیہ کاروں نے اسی کامیابی کو ''سعودی لاجسٹک معجزہ ''قرار دیا۔موجودہ بحران معادن کمپنی کی عالمی سطح پر کام کرنے کی صلاحیت کا بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہوا، خصوصاً ایسے وقت میں جب سعودی عرب آئندہ دہائی کے دوران 110 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے تحت فاسفیٹ، سونا اور ایلومینیم کی پیداوار بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔

کمپنی کے سربراہ کے مطابق معادن نایاب معدنیات کی ریفائننگ کے منصوبوں میں امریکی کمپنی MP Materialsاور امریکی وزارت دفاع کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے۔



سعودی لاجسٹک حلوں کے باعث اب ٹرک روٹس خطے میں خدمات اور تجارت کے نقشے کو نئے انداز میں تشکیل دینے کا حصہ بن چکے ہیں۔

تجارت کو خلیجی خطے سے ہٹا کر بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی شپنگ کمپنیاں جیسے MSC اور ''میرسک ''سامان کو جزیرہ نمائے عرب سے زمینی راستے کے ذریعے ٹرکوں پر منتقل کر رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی ریٹیل چین ''سپینیز'' نے برطانوی غذائی مصنوعات سے بھرے ٹرک روانہ کیے، جن میں آلو کے چپس، جئی اور بچوں کی اسنیکس شامل تھیں۔ یہ 16 روزہ سفر برطانیہ کے علاقے کینٹ سے شروع ہوا، جو مغربی یورپ، مصر اور سعودی عرب سے گزرتا ہوا دبئی پہنچا۔

اسی طرح ''الاتحاد للشحن'' نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں پہلی بار سینکڑوں نسان گاڑیاں ٹرین کے ذریعے فجیرہ کی مشرقی ساحلی بندرگاہ سے خلیج عرب میں واقع ابوظبی منتقل کیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرکوں کے یہ قافلے اس بات کی تازہ مثال ہیں کہ عالمی معیشت جنگی جھٹکوں کے باوجود غیر متوقع لچک دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اگرچہ تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی، لیکن ان کا بڑا حصہ متبادل راستوں کے ذریعے اب بھی عالمی منڈیوں تک پہنچ رہا ہے۔

چند روز قبل سعودی آرامکو کے صدر امین الناصر نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مشرق۔مغرب آئل پائپ لائن، جو اب روزانہ 70 لاکھ بیرل تیل کی مکمل گنجائش کے ساتھ کام کر رہی ہے، توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم شریان ثابت ہوئی ہے۔

ان کے مطابق اس پائپ لائن نے توانائی بحران کے اثرات کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں شپنگ پابندیوں سے متاثر صارفین کو سپورٹ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ تیل اور گیس عالمی توانائی سلامتی اور معیشت کے لیے کس قدر اہم ہیں، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قابلِ اعتماد توانائی سپلائی کتنی ضروری ہے۔

یہی پائپ لائن اس حقیقت کی بھی علامت ہے کہ سعودی عرب کی لاجسٹک صلاحیت، جسے وال اسٹریٹ جرنل نے ''معجزہ'' قرار دیا، اسے عالمی سطح پر سب سے قابلِ اعتماد سپلائر بناتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو۔

مشرق۔مغرب پائپ لائن ''پیٹرولائن'' مشرقی علاقے کے تیل کے ذخائر کو بحیرہ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ سے جوڑتی ہے۔ یہ پائپ لائن خلیج عرب میں جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے دنیا کے اہم متبادل راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

اس کی یومیہ گنجائش تقریباً 50 لاکھ بیرل ہے، جس سے سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے ہٹ کر اپنی تیل برآمدات منتقل کرنے کی بڑی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔سعودی بندرگاہوں نے بھی بحرانوں کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت ثابت کی ہے۔

آرامکو نے بحیرہ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ تک جانے والی مشرق۔مغرب پائپ لائن پر بھرپور انحصار کیا، جس کا تصور پہلی بار 1980 میں صنعتی کمپلیکسز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے فجیرہ کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بڑھا دی، جبکہ دونوں ممالک ان پائپ لائنوں کی گنجائش میں مزید اضافے پر غور کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ نئی ریلوے لائنوں اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کی توسیع کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ادھر نسبتاً چھوٹی خورفکان بندرگاہ متحدہ عرب امارات کے لیے غیر متوقع طور پر ایک اہم سہارا بن گئی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خلیج عمان میں واقع اس بندرگاہ پر روزانہ ٹرکوں کی تعداد جنگ سے پہلے 100 سے بڑھ کر 7000 تک پہنچ گئی، جبکہ کنٹینرز سے لدے بھاری ٹرکوں کی لمبی قطاریں شاہراہوں پر روز کا منظر بن چکی ہیں۔

مجموعی طور پر سعودی عرب کے اقدامات جن میں شپنگ سیکٹر میں 5 نئے لاجسٹک راستوں کا آغاز، ٹرکوں اور زمینی نقل و حمل کے لیے آپریشنل سہولتیں اور دمام میں ذخیرہ و ری ڈسٹری بیوشن مراکز کا قیام شامل ہے۔

اس بات کا ثبوت ہیں کہ مملکت نہ صرف لاجسٹک چیلنجز سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ انہیں ایک اسٹریٹجک برتری میں بھی بدل رہی ہے۔

خلیج عرب اور بحیرہ احمر کے درمیان متنوع بحری راستوں، اعلیٰ تیاری، لچکدار نظام اور وژن 2030 کے تحت معاشی تبدیلی کے منصوبوں کی بدولت سعودی عرب خود کو ایشیا، افریقہ اور یورپ کو جوڑنے والے عالمی لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں