دو دہائیوں میں سب سے کم، اسرائیل کے باعث بائیکاٹ کے درمیان یوروویژن کا فائنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

یوروویژن سونگ مقابلے کا فائنل ہفتے کے روز ویانا میں منعقد ہو رہا ہے، تاہم اس بار یہ ایونٹ پانچ ممالک کے بائیکاٹ اور شہر میں چھوٹے پیمانے پر ہونے والے احتجاجات کے باعث تنازع کا شکار ہے، جس کی وجہ اسرائیل کی شرکت بتائی جا رہی ہے۔

یہ مقابلہ عموماً یورپ اور دیگر خطوں کے پاپ گروپس کے درمیان دوستانہ انداز میں منعقد ہوتا ہے اور اب اپنے سترہویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے جواب میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث بحران کا شکار ہے۔

اسپین، نیدرلینڈز، آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ آئس لینڈ اور سلووینیا نے بھی اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاجاً اس مقابلے کا بائیکاٹ کیا ہے۔

اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر کہا کہ ہم ویانا میں موجود نہیں ہوں گے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہیں۔دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ عالمی سطح پر بدنامی کی مہم کا سامنا کر رہا ہے۔

دو دہائیوں میں سب سے چھوٹے پیمانے کا مقابلہ

7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں کم از کم 1200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بڑا فوجی آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جبکہ غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔

بائیکاٹ کے باعث مقابلے میں شرکاء کی تعداد کم ہو کر 35 رہ گئی ہے، جو 2003 کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی سطح پر اس مقابلے کے ٹی وی ناظرین میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ مقابلہ 16 کروڑ 60 لاکھ افراد نے دیکھا تھا، جو امریکی سپر باؤل کے قریب ہے، جس کے ناظرین کی تعداد تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہوتی ہے۔آج ہونے والے فائنل میں 25 ممالک حصہ لے رہے ہیں، جن میں اسرائیل بھی شامل ہے۔

ویانا، آسٹریا میں 16 مئی 2026 کو ہونے والے یوروویژن گانے کے مقابلے میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاجات دیکھنے میں آئے۔

مقابلے کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔

انہوں نے اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر (ریڈیو کان) کو اس وقت باقاعدہ وارننگ بھی جاری کی، جب ایک شریک مقابلہ کرنے والے نے آن لائن ویڈیو کے ذریعے ناظرین سے درخواست کی کہ وہ اسے زیادہ سے زیادہ 10 بار ووٹ دیں، جو ووٹنگ کی حد ہے۔

ریڈیو کان نے قواعد کی پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے متعلقہ ویڈیو مواد ہٹا دیا ہے۔گزشتہ سال مقابلے کے قواعد کو سخت کیا گیا تھا تاکہ ووٹنگ کے طریقہ کار سے متعلق خدشات دور کیے جا سکیں، کیونکہ اسرائیل پر ایک ایسی مہم کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، جس نے نتائج کو متاثر کیا ہو سکتا ہے۔

اس سال اسرائیل دوسرے نمبر پر رہا تھا، جہاں اسے عوامی ووٹنگ میں بہت زیادہ ووٹ ملے، جبکہ ججز کے مقابلے میں اس کی کارکردگی کم رہی۔

مارٹن گرین نے ناظرین سے اپیل کی کہ وہ مقابلے کے دوران عالمی حالات کو ایک طرف رکھ کر شو سے لطف اندوز ہوں۔

انہوں نے کہا:صرف ایک لمحے کے لیے یا شاید ساڑھے چار گھنٹے کے لیے، آپ دنیا کو ایک طرف رکھ سکتے ہیں اور یہ خواب دیکھ سکتے ہیں کہ کچھ اور بھی ممکن ہے۔

ویانا میں احتجاج

ٓٓآسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہلکی کشیدگی کی کیفیت دیکھی گئی، جہاں اسرائیل کی شرکت کے خلاف ہفتے کے دوران ہونے والے احتجاجات میں صرف محدود تعداد میں افراد شریک ہوئے۔

پولیس نے ممکنہ طور پر محاصرے اور رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔

مقابلے کے قبل از فائنل مرحلے کے دوران منگل کو مختصر بدنظمی اس وقت پیدا ہوئی جب ایک مظاہرین نے ٹی وی مائیکروفون کے قریب ''نسل کشی بند کرو'' اور ''فلسطین آزاد'' کے نعرے لگائے۔

یوروپیئن براڈکاسٹنگ یونین، جو مقابلے کی منتظم ہے اور آسٹریا کے قومی نشریاتی ادارے نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس شخص سمیت تین دیگر افراد کو ''خلل ڈالنے والے رویے'' کی وجہ سے ہال سے باہر نکال دیا گیا۔

اسرائیلی امیدوار نوام بیتان نے رائٹرز کو بتایا کہ اسٹیج پر آتے وقت انہیں مخالفانہ آوازیں سنائی دیں۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سال مقابلے میں فن لینڈ کا گانا ''لیکنہائٹن'' (فلیم تھروور) سب سے آگے ہو سکتا ہے، جس میں وائلن بجانے والی لنڈا لامپینیوس اور پاپ گلوکار بیٹے پارکونن شامل ہیں، جبکہ دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کی گلوکارہ ڈیلٹا گوڈریم کا گانا ''ایکلپس'' بتایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں