مجتبی خامنہ ای کا چہرہ مسخ نہیں ہوا: تہران نے پہلی مرتبہ زخمی ہونے کی وضاحت کردی
زخموں پر چند ٹانکے لگائے گئے۔ ٹانگ کے ایک حصے کی سلائی کی گئی ہے: حسین کرمانپور
ان کے زخمی ہونے کے بعد پہلی بار ایرانی وزارت صحت نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت کے بارے میں تفصیلات کا اعلان کیا ہے۔ نیوز ایجنسی "ایسنا" نے رپورٹ کیا کہ ایرانی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ایرانی رہبر کا چہرہ مسخ نہیں ہوا اور نہ ہی ان کا کوئی عضو کاٹا گیا ہے۔
وزارت صحت میں تعلقات عامہ اور میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر حسین کرمانپور نے بتایا کہ مجتبی خامنہ ای کو واقعے کے فوراً بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
حسین کرمانپور نے یہ بھی واضح کیا کہ زخم اس نوعیت کے نہیں تھے جو مسخ ہونے، موت یا کسی عضو کے کٹ جانے کا باعث بنیں جیسا کہ مرحوم رہبر اعلی علی خامنہ ای کے ساتھ ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ زخموں پر چند ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ ان کی ٹانگ کے ایک حصے کی سلائی کی گئی ہے۔
شدید جھلسنا
امریکی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق گزشتہ ہفتے بتایا گیا تھا کہ موجودہ رہبر اعلی اب بھی اپنے جسم کے ایک پورے حصے پر شدید جھلسنے کے زخموں کا علاج کروا رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا تھا کہ مجتبی خامنہ ای اب بھی تنہائی میں اپنے زخموں کا علاج کروا رہے ہیں جن میں ان کے جسم کے ایک حصے کا شدید جھلسنا شامل ہے جس نے ان کے چہرے، بازو، دھڑ اور ٹانگ کو متاثر کیا ہے۔ دیگر ذرائع نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ تہران میں ان کے والد علی خامنہ ای کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔ اس حملے میں 28 فروری کو امریکہ- اسرائیل جنگ کے پہلے ہی دن ان کے والد کی جان چلی گئی تھی۔
اس کے برعکس ایرانی رہبر اعلیٰ کے دفتر میں پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ مظاہر حسینی نے کہا ہے کی کہ مجتبی خامنہ ای اپنے زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور وہ اب مکمل صحت یاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے زخم صرف ان کے پاؤں اور کمر کے نچلے حصے پر معمولی طور پر آئے تھے اور ایک چھوٹا سا چھرا کان کے پیچھے لگا تھا۔
واضح رہے کہ مجتبی خامنہ ای گزشتہ مارچ میں اپنے والد کے جانشین مقرر ہونے کے بعد سے نہ تو عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی کسی ریکارڈنگ میں ان کی آواز سنی گئی ہے اور ایرانی عوام کے ساتھ ان کا رابطہ صرف سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے تحریری بیانات تک محدود رہا ہے۔ جس نے ان کی حالت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ کچھ ایرانی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ ان کا نظروں سے اوجھل ہونا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اور اسرائیل کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کے خوف سے ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران میں درجنوں سینئر فوجی اور سیاسی رہنماؤں کو جاں بحق کردیا ہے۔