پاکستان کی امارات کےجوہری پلانٹ پرحملےکی مذمت،ایٹمی تنصیبات پرحملوں کےخلاف انتباہ

’تباہ کن اور ناقابلِ تنسیخ نتائج‘ کے خطرات سے آگاہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے براکہ جوہری پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ علاقائی تنازعات کے دوران جوہری تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں سے قانونی، ماحولیاتی اور سلامتی کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

سلامتی کونسل میں "شرقِ اوسط کی صورتِ حال" پر بریفنگ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ و سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا، اسلام آباد نے اس حملے کے بعد متحدہ عرب امارات سے "مکمل یکجہتی" کا اظہار جبکہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اتوار کی سہ پہر کہا کہ عرب دنیا کے پہلے تجارتی جوہری پاور سٹیشن براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کے اندرونی حصے کے باہر ایک برقی جنریٹر میں آگ لگ گئی لیکن حکام نے کہا کہ کوئی زخمی نہیں ہوا اور تابکاری کی سطح معمول پر تھی۔ یہ تبصرے اس کے بعد سامنے آئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز کہا کہ عراق سے گذشتہ 48 گھنٹوں میں اس کے خلاف چھے ڈرونز داغے گئے جن میں سے ایک جوہری تنصیب میں آتش زدگی کا سبب بنا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے ایک ڈرون کے علاوہ باقی تمام کو روکا اور یہ کہ تین ڈرونز نے براکہ پلانٹ کو نشانہ بنایا۔

عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا، "پاکستان 17 مئی کو متحدہ عرب امارات میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ کسی بھی طرح اور کسی بھی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور جوہری تحفظ اور سلامتی کے بنیادی اصولوں کے تحریری آئین اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی مختلف قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے"۔

احمد نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان نے مستقل مزاجی سے یہ نکتۂ نظر برقرار رکھا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی حالت میں کبھی بھی نشانہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سویلین جوہری انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک بخوبی راسخ بین الاقوامی اصول ہے جسے بغیر کسی استثنیٰ کے برقرار رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، "جوہری تنصیبات کے خلاف حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات ایسے حملوں کے قانونی، حفاظتی اور سلامتی کے مضمرات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ خودشناسی اور کارروائی کے متقاضی ہیں۔"

پاکستانی سفیر نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے انسانی زندگی، ماحولیات اور علاقائی نیز عالمی امن و سلامتی کے لیے "تباہ کن اور ناقابلِ تنسیخ نتائج" ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی ایلچی نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ ڈرون حملوں کی "ممکنہ سخت ترین الفاظ میں" مذمت کرتے ہوئے انہیں مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے تازہ ترین حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اس پر بھی اصرار کیا کہ ان کا ملک متعلقہ فریقوں کے درمیان سفارتی روابط آسان بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا اور مزید کہا، "تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں