اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کر کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں اتوار کے روز ایک فلسطینی شہری کو قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ یروشلم کے نزدیک لگائے گئے ایک بیریئر کے پاس پیش آیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت نے فلسطینی کے فائرنگ سے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کا تازہ شکار بننے والا فلسطینی ایک 26 سالہ جوان ہے۔جس کانام عماد ہارون بتایا گیا ہے۔ یہ فلسطینی نابلس کے مشرقی جانب واقع سالم ٹاؤن کا رہائشی تھا۔ اسرائیلی فوجیوں نے اسے رام ٹاؤن کے نزدیک ٹارگیٹ کیا۔ رام اللہ کے میڈیکل کمپلیکس میں اسے لایا گیا مگر ڈاکٹروں نے اس جاں بحق قرار دے دیا۔
فائرنگ کے اس واقعے کی فوٹیج بھی وائرل ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں نے اسے زخمی حالت میں اٹھایا ہوا ہے ، اسرائیلی فوج کی بچھائی ہوئی خاردار تاریں اور لگائے ہوئے بیریئر بھی فوٹیج میں نظر آرہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی پولیس نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی فوج اس علاقے میں عام طور پر فلسطینیوں کو روکتی ہے اور جب چاہے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنا دیتی ہے۔ چند ہفتے قبل ایک 44 سالہ فلسطینی کو بھی اسی بیریئر پر نشانہ بنا کر جان سے مار دیا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ یہ نشانہ بننے والے عام طور پر مزدور فلسطینی ہوتے ہیں جو یروشلم میں کام کی تلاش میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال رہے فلسطینیوں میں سے صرف اسی فرد کو مقبوضہ علاقوں میں مزدوری کی اجازت دی جاتی ہے جن کے پاس اسرائیلی اجازت نامہ ہو۔
حالیہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقوں میں بھی فلسطینیوں کے مزدوری کے پرمٹ جارے کرنے کو انتہائی محدود کر دیا ہے، البتہ ان فلسطینیوں کی جگہ بھارتیوں کو ملازمت کے مواقع دیے گئے ہیں، کہ اسرائیل کے لیے بھارتی کسی بھی مسلمان سے زیادہ وفادار ہوتے ہیں۔ نیز اس طریقے سے فلسطینیوں کو معاشی اعتبار سے بے بس کیے جانے کی پالیسی بروئے کار ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں تیزی لانے کے بعد لگ بھگ 50 فلسطینی مزدور اسی طرح اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں ، جبکہ 38000 فلسطینی گرفتار کیے گئے، تاہم ان میں سے بعض کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔