حوثی تنظیم اور حرکۃ الشباب بحیرہ احمر کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے : تھنک ٹینک رپورٹ
بحیرہ احمر دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور تزویراتی اعتبار سے انتہائی حساس ہے
ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ یمن میں حوثی تنظیم اور صومالیہ میں حرکۃ الشباب کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اب محض اسمگلنگ یا مالی مفادات تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک وسیع تر سکیورٹی اور اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل چکا ہے۔ اس اتحاد کے مضمرات یمن اور صومالیہ کی حدود سے نکل کر بحیرہ احمر کی سکیورٹی، بین الاقوامی جہاز رانی اور مشرق وسطیٰ و ہارن آف افریقہ کے علاقائی توازن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
کینیڈا کے ایک تھنک ٹینک کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق یہ دونوں گروہ نظریاتی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ آپریشنل اور اقتصادی مفادات کے تحت متحد ہوئے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں ان کے درمیان تعاون میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس میں اسلحے کا تبادلہ، عسکری تربیت اور لوجسٹک مہارتوں کا اشتراک شامل ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی 2025 کے دوران ان کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔
حوثی تنظیم جو یمن کی جنگ کے دوران عسکری اور تکنیکی صلاحیتوں میں ماہر ہوئی ہے، حرکۃ الشباب کو جدید مہارتیں فراہم کر رہی ہے۔ بدلے میں حرکۃ الشباب انہیں ہارن آف افریقہ اور خلیج عدن میں اپنی وسیع اسمگلنگ اور سمندری قزاقی کے نیٹ ورکس تک رسائی دے رہی ہے۔ چونکہ یہ دونوں گروہ بحیرہ احمر کے دونوں کناروں پر موجود ہیں، اس لیے وہ اب عالمی تجارت کی اس اہم گزرگاہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ پیش رفت جیو پولیٹیکل لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ حوثی تنظیم تہران کی اہم اتحادی ہے اور اس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا مطلب بالواسطہ طور پر ایرانی اثر و رسوخ کا یمن سے باہر ہارن آف افریقہ تک پہنچنا ہے۔ مطالعے میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر اس تعاون کو عالمی سطح پر روکنے کے لیے جامع حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو یہ خطے میں مزید بد امنی کا باعث بنے گا۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی کوششیں اس لیے ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ حوثی تنظیم اور حرکۃ الشباب کو دو الگ الگ خطرات سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک مربوط نیٹ ورک ہے۔ روایتی عالمی پابندیاں ان گروہوں پر اثر انداز نہیں ہو رہیں کیونکہ وہ غیر رسمی معیشت اور بلیک مارکیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔
آخر میں تحقیق کاروں نے زور دیا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرے۔ ہر گروہ کو الگ الگ نشانہ بنانے کے بجائے، ان نیٹ ورکس، فنڈنگ ذرائع اور اسمگلنگ کے راستوں کو توڑنا لازمی ہے جو ان دونوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ ان نیٹ ورکس کا خاتمہ ہی بحیرہ احمر کی سکیورٹی کو بحال کرنے کی پہلی شرط ہے۔
-
سینا میں مصری ہوائی اڈے پر اسرائیل میں تشویش... عسکری ماہرین کے تبصرے
مصری فوجی عہدے دار کے مطابق تل ابیب ان الزامات کے ذریعے انتشار پھیلانے اور علاقائی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل سے 'عالمی' جنگ بندی، لبنان کے سپیکر حزب اللہ کی طرف سے پاسداری کی ضمانت دیں گے
نبیہ بری نے گروپ اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی ہے
مشرق وسطی -
بحرین نے اپنے شہریوں کے ایران اور عراق سفر پر پابندی عائد کر دی
بحرینی وزارتِ داخلہ نے سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے ایران اور عراق ...
مشرق وسطی