اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے پیر کو کہا، لبنان میں جب موجودہ مشن کا مینڈیٹ سال کے آخر میں ختم ہو جائے گا تو امن فوجیوں کی ضرورت ہو گی – یہ ایک ایسا اقدام ہو گا جسے امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
گذشتہ اگست میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی دباؤ میں 31 دسمبر 2026 کو لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فوج (یونی فِل) کا مینڈیٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم کونسل نے گوتریس سے کہا کہ وہ یکم جون تک اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کا لبنان میں رہنا ممکن بنانےکے لیے اختیارات تجویز کریں خاص طور پر بلیو لائن کی نگرانی کے لیے جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ڈی فیکٹو بارڈر کی علامت ہے۔
پیر کو سلامتی کونسل کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں گوٹیریس نے تین اختیارات تجویز کیے ہیں جن کے تحت جنگ بندی کی نگرانی اور لبنانی مسلح افواج کی حمایت کے لیے اقوامِ متحدہ کے تقریباً 2,000 سے لے کر 5,500 سے زیادہ اہلکار تعینات ہوں گے۔
اے ایف پی کی ملاحظہ کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا، "تمام مجوزہ اختیارات کے تحت کشیدگی میں کمی، مذاکرات، رابطہ کاری اور لبنانی مسلح افواج کی حمایت کے لیے کام کرنے کی غرض سے اقوامِ متحدہ کی یکساں موجودگی ضروری ہو گی تاکہ تنازع کے طویل مدتی حل کے بنیادی مقصد کی طرف پیش رفت ہو۔"
جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر اسرائیلی فوجیوں کا قبضہ ہے اور چونکہ اسرائیل اور لبنان عشروں سے جاری دشمنیوں کو ختم کرنے کے لیے براہِ راست مذاکرات کر رہے ہیں تو یونی فِل سے نکلنے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ فوج 1978 سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک بفر رہی ہے حالانکہ اس کی موجودگی تنازعات کو بار بار پھیلنے سے نہیں روک سکی ہے۔
کئی لبنانی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا وعدہ کرنے والا بیروت یونی فِل کے انخلاء کے بعد اقوامِ متحدہ کی موجودگی برقرار رہنے کی حمایت کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں لبنان کے سفیر احمد عرفہ نے اپنی رپورٹ کے لیے گوتریس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "حالیہ پیش رفت سے صرف لبنان کے لیے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی امداد کی مسلسل ضرورت میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر ایک طرف اسرائیلی انخلاء کو آسان بنانے اور دوسری طرف ریاست کو اپنے پورے علاقے پر اختیار بڑھانے کے لیے"۔
سلامتی کونسل کے کئی ارکان بھی خاص طور پر چین اور روس یونی فِل کے متبادل کی حمایت کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں چین کے ایلچی فو کانگ نے کہا، "چونکہ یونی فِل کا مینڈیٹ ختم ہونے والا ہے تو سلامتی کونسل کو لبنان میں اقوامِ متحدہ کی مسلسل موجودگی کو یقینی بنانے اور سلامتی کے خلا کو روکنے کے لیے ایک ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔"
لیکن امریکہ اور قریبی اتحادی اسرائیل نے اگست میں ہونے والی ووٹنگ کا خیر مقدم کیا جس سے یونی فِل ختم ہو گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں اور ان کی مدد کے لیے امریکی مالی تعاون کا کچھ حصہ روک دیا ہے جس نے اقوامِ متحدہ کو تمام دنیا میں اپنے فوجی کم کرنے پر مجبور کر دیا۔
-
تہران نے امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کی تجویز پر اپنا جواب ابھی نہیں بھیجا:ایرانی میڈیا
ایرانی خبر رساں ایجنسی ''مہر ''کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب سمجھے جانے ...
مشرق وسطی -
باب المندب کو ایک اور آبنائے ہرمز بنا دیں گے:ایران کی نئی دھمکی
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کی ذمہ دار شاخ فورسِ قدس کے ...
مشرق وسطی -
بحرین نے اپنے شہریوں کے ایران اور عراق سفر پر پابندی عائد کر دی
بحرینی وزارتِ داخلہ نے سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے ایران اور عراق ...
مشرق وسطی