غزہ : اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک کردہ فلسطینیوں کی تعداد 73000 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں دو سال سے کچھ زیادہ عرصے کے لیے جاری رہنے والی اسرائیلی جنگ کے دوران اور بعد ازاں جنگ بندی کے باوجود ہلاک کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد اتوار کے روز 73000 ہو گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کے حملے اب بھی جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے جس علاقے میں چاہتی ہے بمباری کرتی ہے۔ جہاں چاہتی ہے ڈرون حملے کرتی ہے اور جس جگہ فائرنگ کافی سمجھتی ہے تو اسرائیلی فوجی فائرنگ کر کے فلسطینیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دس اکتوبر 2025 کو امن معاہدہ کرایا تھا۔ مگر دس اکتوبر 2025 کے بعد بھی فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔

فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے یہ اپ ڈیٹ اعداد و شمار ریکارڈ مرتب کرنے والے محکمے کے سربراہ ظاہر الواحدی کی طرف سے سامنے لائے گئے ہیں۔ ان کا اجراء محکمہ تعلقات عامہ سے حمزہ سلیم نے کیا ہے۔

یہ 73000 ہلاکتوں کی تعداد سات اکتوبر 2023 سے لے کر اتوار کے روز تک کی ہے۔ اتوار کے روز ہی یہ معلومات ظاہر کی گئی ہیں۔ تاہم اتوار کے روز بھی مزید پانچ فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں قتل کیا ہے۔

ان میں سے دو ہلاکتیں جنوبی غزہ میں خان یونس میں کی گئیں۔ ایک ہلاکت وسطی غزہ میں ہوئی۔ دو افراد کی ہلاکت بعد ازاں ہوئی جو اس سے پہلے زخمی ہوئے تھے۔

اس روز جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک زخمیوں کی تعداد 173200 ہو گئی ہے۔ زخمیوں کی یہ تعداد سات اکتوبر سے اب تک کی ہیں۔

ہفتے کی شام کو دو فلسطینیوں کو خان یونس میں بمباری کر کے ہلاک کیا گیا۔ ہلاک شدگان کو ناصر ہسپتال میں لایا گیا۔ یہ بات ہلال احمر سوسائٹی نے کہی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس بارے میں ابھی تک کوئی تصدیقی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے فلسطینی وزارت صحت حماس کے زیر قیادت کام کرنے والی حکومت کا حصہ ہے۔ اس کے مطابق ان ہلاک کیے گئے فلسطینیوں میں سب سے زیادہ تعداد فلسطینی بچوں اور خواتین کی ہے۔ جو کل ہلاکتوں کی لگ بھگ نصف ہے۔ اب تک کے جاری کردہ اعداد و شمار کو اقوام متحدہ کے مختلف ادارے بھی تسلیم کرتے رہے ہیں۔

جبکہ اسرائیل جس کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع ( سابق ) یوو گیلنٹ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم میں مطلوب قرار دے کر ان دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ دنیا اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں