خلیجی،عرب ریاستوں کاامریکہ-ایران معاہدےکا خیرمقدم،جنگ کےخاتمےاورہرمزکےدوبارہ کھلنےکی امید

خلیجی و دیگر ممالک کی طرف سے سفارت کاری کی تعریف اور تعمیری مذاکرات پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

خلیجی اور عرب ریاستوں نے پیر کے روز جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ-ایران معاہدے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ دیرپا علاقائی استحکام اور وسیع تر سفارتی تعامل کی راہ ہموار کرے گا۔

سعودی عرب نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی کارروائیاں روکنے اور 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جس کا مقصد تصفیےکو مستقل بنیاد پر طے کرنا ہو۔

متحدہ عرب امارات نے ابتدائی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے جس میں دشمنی کو فوراً روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دینا شامل ہے، وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا۔

وزارت نے مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات تنازعہ سے متأثر ہوا ہے اور ایرانی حملوں کے باعث ملک سے منسلک جہازرانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

کویت نے معاہدے کا خیرمقدم کیا جس میں فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ شامل ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ جہازرانی کی ضمانت دی گئی ہے۔

خلیجی ریاست نے پاکستان اور قطر کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کی طرف سے ثالثی کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے معاہدے کو آسان بنانے میں مدد کی۔ ایک بیان میں کویت نے امید ظاہر کی ہے کہ "اچھی ہمسائیگی، باہمی احترام، ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور پراکسیز کی حمایت کے خاتمے" پر مبنی پائیدار حل کے ذریعے یہ سمجھوتہ تصفیہ طلب مسائل حل کرنے میں مدد کرے گا۔

قطر نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی کارروائیوں کے دیرپا خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ دوحہ نے اس عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور مذاکرات اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کیا جو تنازعات حل کرنے کے بہترین ذریعہ ہیں۔

مصر اور لبنان نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقائی کشیدگی میں کمی کرنے اور استحکام میں مدد ملے گی اور مذاکرات کے ذریعے تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

مصر نے معاہدے کو علاقائی و بین الاقوامی استحکام کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ اعتماد کو مضبوط، سفارتی کوششوں میں پیش رفت اور شرقِ اوسط میں امن کے لیے مزید معاون ماحول پیدا کرے گا۔ قاہرہ نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ جنگ کا خاتمہ غزہ اور مغربی کنارے پر بین الاقوامی توجہ مرکوز کرے گا اور اس سے ٹرمپ امن منصوبے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کی کوششیں تیز ہوں گی۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بّری نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لبنان سمیت علاقائی سلامتی و استحکام کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے پاکستان، قطر، سعودی عرب اور مصر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور ملک کی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کی دفعات کا خیرمقدم کیا۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات کو سراہا کہ لبنان کی سلامتی و استحکام معاہدے میں شامل ہے۔

عراق نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات سے متأثرہ ممالک سے تعلقات کی بحالی کے لیے کام کرے گا۔

ترکی نے معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جس سے پورے خطے میں امن و استحکام کو تقویت ملے گی۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پائیدار معاہدے کا باعث بن سکتا ہے اور علاقائی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اردن نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل حل کے لیے مذاکرات کا آغاز علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

معاہدے کے تحت صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔

معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں تاہم کلیدی ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر امور پر مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں