کویتی میڈیا کے مطابق فوجداری عدالتِ تمییز نے سابق وزیرِ داخلہ و دفاع شیخ طلال الخالد کو معروف ''خفیہ اخراجات'' کیس میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 3 سال قیدِ بامشقت اور 3 ہزار کویتی دینار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
روزنامہ القبس کے مطابق عدالت نے مقدمے کے دوسرے ملزم ایک مصری شہری کو بھی تین سال قید کی سزا سنائی اور سزا مکمل ہونے کے بعد اسے ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔
القبس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے وزارتِ دفاع سے متعلق مقدمے میں شیخ طلال الخالد کو تین سال قید کی سزا دی، جبکہ وزارتِ داخلہ کے کیس میں بھی 3 سال قید اور 3 ہزار دینار جرمانہ عائد کیا۔
تاہم عدالت نے دونوں سزاؤں کو یکجا کرتے ہوئے قید کی سزا پر عمل درآمد کا حکم دیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شیخ طلال الخالد اس سے قبل وزارتِ دفاع سے متعلق مقدمے میں تقریباً 5 لاکھ کویتی دینار ادا کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ جنوری میں عدالتِ تمییز نے ایک سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے وزراء عدالت کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قید، 10 ملین کویتی دینار جرمانے اور 20 ملین دینار کی واپسی کی سزا منسوخ کر دی تھی، جو وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ میں سرکاری فنڈز میں خرد برد کے دو مقدمات سے متعلق تھی۔
شیخ طلال خالد الاحمد الصباح 16 اکتوبر 2022 سے 17 جنوری 2024 تک نائب اول وزیرِاعظم اور وزیرِ داخلہ کے منصب پر فائز رہے، جبکہ اس سے قبل 9 مارچ 2022 سے 16 اکتوبر 2022 تک نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔