لبنان کے جنوب اور مشرق میں گذشتہ گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں حملوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ کو بھاری قیمت چکانے کی دھمکی دی ہے۔
نیتن یاہو نے آج جمعہ کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا اپنی سرزمین پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور حزب اللہ کو انتہائی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان میں تب تک موجود رہے گی جب تک ضرورت ہو گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ انہوں نے گذشتہ رات فوج کو حزب اللہ پر شدید حملے کرنے کی ہدایت کی تھی۔ نیتن یاہو نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور درجنوں مسلح افراد کو ہلاک کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے باور کرایا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے اور جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج سمندری ساحل سے لے کر قلعہ الشقی کی پہاڑیوں تک جسے وہ "سکیورٹی زون" کہتے ہیں، وہاں موجود رہے گی۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں حزب اللہ کے 80 سے زائد اہداف پر بم باری کی اور اس کے درجنوں ارکان کو ہلاک کیا۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے رات کے دوران النبطیہ کے علاقے اور جنوبی لبنان کے دیگر اضافی علاقوں میں سکیورٹی زون کے اندر اور باہر 80 سے زائد کمانڈ سینٹرز، لانچنگ سائٹس اور اضافی بنیادی ڈھانچوں پر بمباری کی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد ہونے والے پہلے جانی نقصانات ہیں۔
یہ پیش رفت دسیوں جنوبی قصبوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مشرق میں بعلبک شہر کے قریب علاقوں پر شدید اسرائیلی فضائی حملوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ لبنان میں جنگ بندی ان 14 نکات کا حصہ تھی جو اس مفاہمت کی یاد داشت میں شامل تھے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے دستخط کیے۔ اس کا مقصد جنگ کو روکنا اور ایٹمی معاملے پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔
تاہم اسرائیل نے جو اس معاہدے سے کسی حد تک ناراض دکھائی دیتا تھا، بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین پر اپنی فوجوں کی تعیناتی جاری رکھے گا اور حزب اللہ کی نقل و حرکت پر حملہ کرے گا، جس کے نتیجے میں ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔