ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو بتایا کہ حملہ آوروں نے عراقی کردستان خطے کی سرحد کے قریب مغربی شہر پاوہ میں ایران کے آئی آر جی سی کے دو ارکان کو ان کے گھر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
یہ فوراً واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ میں کون ملوث تھا لیکن تہران نے علاقے میں کرد علیحدگی پسند گروہوں کو گذشتہ تشدد کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اکثر ان پر امریکہ اور اسرائیل سے روابط کا الزام لگایا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ آئی آر جی سی کے دو ارکان "ایک دہشت گرد اور بزدلانہ کارروائی" میں ہلاک ہوئے جبکہ اس کے دو دیگر ارکان زخمی ہوئے۔
نیز کہا، "اس واقعے کی صحیح تفصیلات اور ذمہ داروں کی شناخت کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔"
علاوہ ازیں صوبہ سیستان-بلوچستان کے جنوب مشرقی قصبے سراوان میں پیر کو "ایک خاندان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی" جس سے باپ ہلاک اور ماں زخمی ہو گئی۔
خاتون بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
حکام نے فوری طور پر ذمہ داروں کی شناخت نہیں کی اور نہ ہی متأثرین کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کیں۔
لیکن سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ یہ حملہ "کرائے کے صیہونی-امریکی فوجیوں نے کیا۔" یہ اصطلاح ایرانی حکام عموماً علیحدگی پسند اور عسکریت پسند گروپوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سیستان-بلوچستان، جس کی سرحد پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہے، میں طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز، باغیوں اور منشیات سمگلروں کے درمیان جھڑپیں دیکھی گئی ہیں۔
یہ ایک بڑی نسلی بلوچ آبادی کا مسکن ہے جن میں سے اکثر سُنی مسلمان ہیں۔ یہ ایران کے غریب ترین صوبوں میں سے ایک ہے۔
-
امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں کسی ملاقات کا منصوبہ زیرغور نہیں: قطر
معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کشیدگی میں اضافے کا باعث ہیں
بين الاقوامى -
ایران کا مفاہمت کی یا داشت کی کسی بھی امریکی خلاف ورزی پر جواب دینے کا عزم
ہفتے کے آخر میں فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد
مشرق وسطی -
پابندیاں اٹھائے جانے کے باوجود خریدار ایرانی تیل سے گریزاں، چین واحد استثنا : بیسنٹ
امریکی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ تہران اپنا تیل رعائت کے ساتھ بیچ رہا ہے اور اس کا ...
بين الاقوامى