تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر کے تابوت کے سامنے حزب اللہ تنظیم کے رہنما رو پڑے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

تہران میں سابق ایرانی مرشد علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں ایرانی عوام بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں اور کئی سیاسی رہنما بھی موجود ہیں۔

آج جمعے کو لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ارکانِ پارلیمنٹ سابق مرشد کو الوداع کہنے کے لیے تہران پہنچے۔ تنظیم کے موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ اور رہنماؤں کو تابوت کے سامنے آنسو بہاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان رہنماؤں میں محمد فنیش اور محمود قماطی شامل تھے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی ذرائع نے واضح کیا کہ تنظیم کے سابق سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے اہل خانہ بھی اس موقع پر موجود ہیں۔

شہر میں سرکاری تعزیت کی تقریبات ہفتے کے روز شروع ہوں گی، جس میں لاکھوں ایرانیوں کی شرکت متوقع ہے۔ خامنہ ای کا تابوت تہران کے بڑے مصلیٰ (مصلیٰ امام خمینی) میں رکھا گیا ہے۔

یہ تقریبات آئندہ پیر تک جاری رہیں گی، جس کے بعد خامنہ ای کی میت کو قُم شہر اور پھر عراق لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں آئندہ جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں دفن کیا جائے گا۔

ادھر ایران نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی فضائی حدود کو کئی دنوں تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ خامنہ ای 28 فروری کو ایک اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے جس نے دارالحکومت تہران میں ان کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع جنگ شروع کر دی تھی جو پانچ ہفتوں سے زائد جاری رہی، یہاں تک کہ اپریل کے اوائل میں واشنگٹن اور تہران کے نمائندوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

اس جنگ کے نتیجے میں درجنوں جرنیل اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، نیز نمایاں ایرانی سیاست دان اور وزراء مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں