عمان تعاون کرے یا نہ کرے، ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایرانی عہدیدار
عمان کے ساتھ جاری بات چیت کا مطلب کسی بھی صورت تہران کے خودمختاری کے حق سے دستبردار ہونا نہیں
ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے سلطنت عمان کے ساتھ جاری بات چیت کا مطلب کسی بھی صورت تہران کے خودمختاری کے حق سے دستبردار ہونا نہیں ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی خواہ سلطنت عمان ایران کے ساتھ تعاون کرے یا نہ کرے۔ انہوں نے ان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا جو تہران نے آبنائے میں جہاز رانی کے انتظام کے طریقہ کار پر نافذ کی ہیں۔
یہ بات سلطنت عمان اور ایران کی جانب سے ہفتے کے روز دارالحکومت مسقط میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات، اس کی سکیورٹی اور اس میں آزادانہ گزر گاہ کو یقینی بنانے کے حوالے سے مذاکرات کا دور ختم کرنے کے بعد سامنے آئی۔ یہ مذاکرات خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد تیز رفتار سفارتی سرگرمیوں کے درمیان ہوئے۔
رپورٹس نے بتایا کہ مسقط دو الگ الگ راستوں کے ذریعے بحری ٹریفک کو منظم کرنے کی تجویز تیار کرنے پر کام کر رہا ہے۔ ان دو راستوں میں سے ہر ایک دونوں فریقوں کے مابین متفقہ انتظامات کے تابع ہو گا۔
یہ مذاکرات جمعہ کے روز امریکہ کی جانب سے ایران سے یہ مطالبہ کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ نہ بنانے اور تمام بحری راستوں کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنے کا عوامی طور پر عہد کرے۔ تہران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر مبینہ خلاف ورزیاں اور جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو وہ اپنے سابقہ وعدوں پر نظر ثانی کرے گا۔
ایران نے اتوار کے روز امریکہ کے ساتھ جنگ میں حملوں کے ایک نئے دور کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ امریکہ نے اپنی طرف سے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ تزویراتی آبی گزرگاہ اب بھی کھلی ہے اور اس کے بحری جہاز جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وہاں موجود ہیں۔ باہمی حملوں کا نیا دور آبنائے میں ایک تجارتی جہاز پر نئے ایرانی حملے کے بعد شروع ہوا۔ اس حملے نے عملے کو اس میں آگ لگنے کے بعد اسے خالی کرنے پر مجبور کر دیا۔ ایران نے امریکی بمباری کا جواب کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور سلطنت عمان کی طرف اپنے میزائل اور ڈرون داغ کر بھی دیا۔
یہ کشیدگی گذشتہ ماہ ایران اور امریکہ کے مابین دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت کے لیے مزید خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس مفاہمت کا مقصد گذشتہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا ہے۔ ثالث سفارتی حل کے امکانات کو بحال کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں میں جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی (ارنا) کے مطابق ایران نے گذشتہ رات آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا اور موقف اختیار کیا کہ انہوں نے اس واحد گزرگاہ کو استعمال کرنے کی ہدایات کو نظر انداز کیا جس کی وہ اجازت دیتا ہے یا انہوں نے اس کے طے کردہ قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز ان تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے جو قانونی طور پر اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو عبور کرنا چاہتے ہیں۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ امریکی افواج جہاز رانی کی آزادی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایران کے غیر جواز اقدامات جارحیت، ہراساں کرنے، دھمکیوں اور من مانے اعلانات پر مبنی ہیں۔ سینٹ کام نے کہا کہ ایران آبنائے پر کنٹرول نہیں رکھتا اور جہاز رانی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
سینٹ کام کے بیان پر ایران نے دوبارہ "پرشین خلیج واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی" کے ایک بیان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنا اس وقت ممکن نہیں ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران تجارتی جہاز رانی کے لیے آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا کیونکہ عالمی تیل کی برآمدات کا پانچواں حصہ اس تزویراتی آبنائے سے گزرتا تھا۔ تہران اصرار کر رہا ہے کہ آبنائے کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت پر واپس نہیں آئے گی۔ وہ جہازوں پر سروس چارجز نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن جہاز رانی کی آزادی کے اپنے موقف پر قائم ہے۔
-
ایران پر نئے امریکی حملے، بندر عباس و قشم دھماکوں سے گونج اٹھے
امریکہ نے دو مقامات پر ایرانی پاسداران انقلاب کی چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا
مشرق وسطی -
آبنائے ہرمز جوہری بم سے زیادہ اہم ہے: مشیر ایرانی سپریم لیڈر
ایرانی سپریم لیڈر کے ایک مشیر نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز کی حفاظت کا عہد کرتے ...
مشرق وسطی -
ایرانی جارحیت کسی بھی بہانے ناقابلِ قبول ہے:عرب لیگ
کسی بھی عرب ملک کی خودمختاری پر حملہ ناقابلِ برداشت خلاف ورزی ہے:نبیل فہمی
مشرق وسطی