شام نے حزب اللہ کو اسلحہ کی اسمگلنگ ناکام بنا دی ... تنظیم کو "دہشت گرد ملیشیا" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی حکام نے عراق کی سرحد کے راستے لبنان جانے والی اسلحہ اور میزائلوں کی ایک بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ شامی وزارت داخلہ کے مطابق یہ اسلحہ "حزب اللہ" کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی شام کی جانب سے اسلحہ کی اسمگلنگ روکنے کی کوششوں کا تازہ ترین حصہ ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق یہ کارروائی سرحدی علاقے میں مشکوک حالات میں کھڑی ایک گاڑی کی نگرانی کے بعد عمل میں آئی۔ تلاشی کے دوران اس میں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، اینٹی آرمر گائیڈڈ میزائل اور ڈرونز برآمد ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ کھیپ شامی سرزمین سے ہوتی ہوئی لبنان پہنچائی جانی تھی۔ وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت اور قومی خود مختاری کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور شامی سرزمین کو اسلحہ کی اسمگلنگ یا پڑوسی ممالک کے امن کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شامی خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی کہ پکڑی گئی کھیپ میں معیاری اسلحہ اور میزائل شامل ہیں۔ "العربیہ/الحدث" کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ ضبط شدہ کھیپ میں تقریباً 150 خودکش ڈرونز، دھماکہ خیز گولے اور دیگر جدید اسلحہ شامل تھا۔ یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 'عراق - شام' سرحد پر کی گئی، جس سے کھیپ کو شام کے اندر تک داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔

عراقی سکیورٹی میڈیا سیل نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ وزیر اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔ یہ کمیٹی شامی حکام کے ساتھ رابطہ کر کے تمام تفصیلات معلوم کرے گی اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی تاکہ سرحدوں کا امن برقرار رہے۔

بعد ازاں "العربیہ" کے ذرائع نے بتایا کہ اسلحہ کی اسمگلنگ عراقی تیل لے جانے والے ٹینکر کے ذریعے 7 جولائی کو کی گئی تھی۔ عراقی انٹیلیجنس کے سربراہ کی صدارت میں کمیٹی تحقیقات کے لیے شام کے ساتھ واقع "الولید" بارڈر کراسنگ پر پہنچ گئی ہے۔

گذشتہ چند مہینوں کے دوران شامی حکام نے متعدد بار اسلحہ کی اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تازہ ترین کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب علاقائی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ-ایران محاذ آرائی کے تناظر میں خطے میں اسلحہ کی نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ تا حال حزب اللہ یا عراقی حکام کی جانب سے دمشق کے اس اعلان پر کوئی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں