امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کے روز بتایا کہ عراق اور شام کے درمیان کئی عشروں سے بند تیل کی ایک بڑی پائپ لائن دونوں ممالک کی جانب سے بحال کر دی جائے گی۔
"جمہوریہ عراق کی اور شامی عرب جمہوریہ کی حکومتوں نے بنیادی ڈھانچے کے ترجیحی منصوبے کے طور پر عراق-شام خام تیل پائپ لائن کی بحالی اور تعمیرِ نو میں پیش رفت کا جو ارادہ کیا ہے، امریکہ اس کا خیرمقدم کرتا ہے،" امریکی محکمہ خارجہ نے اسے "دوطرفہ اور علاقائی تزویراتی اہمیت کا حامل" قرار دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا۔
پائپ لائن عراقی تیل کی پیداوار کو بحیرۂ روم اور اس سے باہر کی برآمدی منڈیوں سے منسلک کر دے گی۔
محکمہ خارجہ نے مزید کہا، "آج کا اعلان خطے اور شام-عراق تعلقات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔"
محکمے نے کہا، "اس منصوبے کے تکنیکی اور مالیاتی پہلوؤں کی انجام دہی کے لیے" واشنگٹن ایک بین الاقوامی کنسورشیم کی نگرانی کر رہا ہے جو مکمل بحال ہو جائے تو یومیہ 20 لاکھ بیرل خام تیل کی ابتدائی نقل و حمل کی گنجائش متوقع ہے۔
گذشتہ ہفتے دمشق میں ٹوٹل انرجیز کے سی ای او پیٹرک پویان نے کہا تھا، "عراق سے بحیرۂ روم تک تیل کی آمد کے لیے شام ایک اہم تجارتی ملک" بن سکتا ہے خاص طور پر چونکہ ایران جنگ سے آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی عالمی رسد پر اس کے اثرات کے پیشِ نظر "متبادل راستوں" کی ضرورت ہے۔
آبنائے کی بندش سے بچنے کے لیے عراق اپریل سے شام کے راستے بذریعہ ٹرک خام تیل کی نقل و حمل کر رہا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں امریکی حملے دوبارہ شروع ہو جانے کے بعد ایران نے آبنائے بند کر دی ہے۔
تیل پائپ لائن کی بحالی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی قیادت کی تعریف کی ہے۔