جمعے کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ایک ماہ سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ اضافہ اس وقت ہوا ،جب امریکہ اور ایران نے خلیج کے مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیاں تیز کر دیں، جس کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل ایک بار پھر متاثر ہوئی، جبکہ بحیرہ احمر میں باب المندب کے راستے بحری نقل و حرکت کو بھی نئے خطرات کا سامنا ہے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 3اعشاریہ87 ڈالر یعنی 4اعشاریہ59 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 88اعشاریہ10 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3اعشاریہ54 ڈالر یعنی 4اعشاریہ48 فیصد اضافے کے ساتھ 82اعشاریہ49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں اقسام کے تیل کی قیمتیں جون کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
رواں ہفتے دونوں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ہوا۔ برینٹ تیل مسلسل تیسرے ہفتے جبکہ امریکی خام تیل دوسرے ہفتے بھی اضافے کی جانب گامزن ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ واشنگٹن نے ایران میں پلوں اور ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواب میں کویت کے ایک بجلی پیدا کرنے والے مرکز اور پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
امریکی فوج نے جمعے کو مسلسل ساتویں رات ایران پر نئی فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر بتایا کہ نئی کارروائیاں گرین وچ وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع کی گئیں، جن کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔ایران نے یہ بھی دباؤ ڈالا کہ اگر واشنگٹن ایران کے بجلی کے نظام سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، تو یمن میں حوثی گروپ کو بھی باب المندب بند کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر واقع اہم بحری گزرگاہ ہے۔