یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ العربیہ/الحدث کے نامہ نگار محمد عیضہ کے قتل میں ملوث گروہ کے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
العلیمی نے بتایا کہ اس گروہ کے ارکان کو آئندہ ہفتے عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔
یاد رہے کہ محمد عیضہ 25 جون کو مشرقی یمن کے صوبہ حضرموت کے شہر المکلا میں اس وقت جاں بحق ہو گئے تھے ،جب ان کی گاڑی کو نشانہ بنانے والی ایک بم نصب شدہ ڈیوائس دھماکے سے پھٹ گئی تھی۔
چار بچوں کے والد تھے
محمد عیضہ 1986 میں یمن کے صوبہ تعز کی تحصیل شرعب میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کے والد تھے۔
انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز صنعاء میں یمنی ٹی وی چینل ''السعیدہ'' کے ساتھ بطور کیمرہ مین کیا، بعد ازاں ''الحرہ'' ٹی وی سے بھی وابستہ رہے۔
2018 کے آخر میں صنعاء میں مسلح افراد نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ حملہ آوروں نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر اہلِ خانہ کو ہراساں کیا اور گھر کا سامان بھی لوٹ لیا، جس کے بعد وہ صنعاء چھوڑ کر عدن منتقل ہو گئے۔
بعد ازاں محمد عیضہ نے العربیہ سے بطور فری لانس کیمرہ مین اور نامہ نگار وابستگی اختیار کی اور مکلا میں رہائش پذیر ہو کر اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے لگے۔
وہ 2019 سے العربیہ کے ساتھ منسلک تھے اور مشرقی یمن کے ساحلی علاقوں وادی حضرموت، صحرائی خطوں اور صوبہ المہرہ میں سیاسی، ترقیاتی اور سکیورٹی سے متعلق اہم واقعات کی رپورٹنگ کرتے رہے۔