عراق کے کردستان ریجن کے دارالحکومت اربیل کو ہفتے کی شام 6 ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق حملہ امریکی قونصل خانے کے اطراف اور اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب قائم لاجسٹک بیس کے علاقے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا، جبکہ اس حملے میں کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ذرائع نے مزید کہا کہ ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے جنگی طیاروں نے اربیل کی فضاؤں میں پروازیں بھی کیں۔
8 ڈرونز مار گرائے گئے
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی، جب عراق کے کردستان ریجن کے انسدادِ دہشت گردی ادارے نے اعلان کیا کہ امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی افواج نے جمعہ کی صبح اربیل شہر کی فضائی حدود میں 8 دھماکا خیز ڈرونز کو مار گرایا۔
اربیل میں امریکی قونصل خانے کا ایک بڑا کمپلیکس موجود ہے، جبکہ شہر کے ہوائی اڈے پر بین الاقوامی اتحاد کے فوجی مشیر بھی تعینات ہیں۔
بعد ازاں ایک کرد سیکیورٹی اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کو بتایا کہ مزید 5 ڈرونز کو بھی روک کر ناکام بنا دیا گیا۔
ایرانی کرد مخالف جماعت کے کیمپ پر حملہ، 9 افراد ہلاک
دوسری جانب جمعہ کی صبح عراق کے شمالی کردستان علاقے میں ایران مخالف کرد جماعت کے ایک کیمپ پر حملے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔
جماعت نے اس حملے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے۔ایرانی کرد مخالف جماعت کوملہ (کردستان کے محنت کشوں کی پارٹی) کے رہنما ادریس کولہوازی نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے صبح ساڑھے چار بجے (گرین وچ وقت کے مطابق رات 30 :1بجے) عراق کے کردستان ریجن کے دوسرے بڑے شہر سلیمانیہ کے قریب واقع کیمپ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
کوملہ کے رہنما امجد بناہی کے مطابق ایرانی کرد جنگجوؤں کے ایک دوسرے کیمپ کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں جماعت کے دو افراد زخمی ہوئے۔
ایک کرد فوجی ذریعے کے مطابق اسی علاقے میں ایک الگ واقعے کے دوران کرد فورسز کے ایک اسلحہ گودام کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
کردستان میں کشیدگی میں دوبارہ اضافہ
کردستان میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اب تک اس میں عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل پر ڈرون حملے اور ایران مخالف کرد جماعتوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں سامنے آئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران کردستان ریجن، جہاں بین الاقوامی اتحاد کے تحت امریکی افواج، غیر ملکی تیل کمپنیاں اور ایران مخالف کرد جماعتیں موجود ہیں، ایران یا اس کی حمایت یافتہ عراقی مسلح تنظیموں کے حملوں کا مسلسل ہدف رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نواز عراقی مسلح گروہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران عراق میں امریکی مفادات کو 600 سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔