'سرخ دانوں سے بھرے جسم': غزہ کے کیمپوں میں چکن پاکس کا پھیلاؤ

انتہائی متعدی بیماری میں اضافہ، مریضوں کو الگ رکھنے کے لیے جگہ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

آٹھ سالہ روبا سعدیہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک ہی خیمے میں دن گذارتی ہے۔ اس کا جسم سرخ چھالوں سے بھرا ہوا ہے کیونکہ چکن پاکس پُرہجوم کیمپوں میں چکن پاکس پھیلا ہے۔

غزہ میں ڈاکٹروں اور بے گھر خاندانوں کا بیان ہے کہ حالیہ مہینوں میں انتہائی متعدی بیماری میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ جنگ کے باعث لاکھوں فلسطینی تنگ خیمہ کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں حفظانِ صحت کے لیے صاف پانی نہیں ہے۔

روبا کی 19 سالہ بہن علاء نے اے ایف پی کو بتایا، "ڈاکٹر نے ہمیں بتایا ہے کہ اسے روزانہ صفائی کی ضرورت ہے اور 20 دن کے لیے الگ تھلگ رکھا جائے۔ لیکن ہم اسے کیسے الگ کر سکتے ہیں؟ ہم سب ایک ہی خیمے میں رہتے ہیں۔"

یونیسیف کی خاتون ترجمان لوئیس واٹریج نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ غزہ کی پٹی کا گنجان ترین علاقہ ہے۔ خاندان تقریباً ایک دوسرے کے اوپر پناہ لیے ہوئے ہیں۔"

مریضوں کو الگ کرنا ناممکن ہے

فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی کے ماہرِ امراضِ جلد رائد عبدالکریم ابو ساریہ نے کہا، مریضوں کو الگ کرنے کے لیے جگہ کی کمی ہے جس سے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "چکن پاکس کے مریضوں کو الگ تھلگ رکھا جانا چاہیے کیونکہ یہ بیماری سانس کے انفیکشن سے پھیلتی ہے۔ لیکن غزہ کے خیموں میں بیماروں کو صحت مند افراد سے الگ کرنا عملاً ناممکن ہے۔ آپ تصور کریں کہ 10، 15 حتیٰ کہ 20 لوگ ایک چھوٹے سے خیمے میں رہتے ہیں۔ وہ ایک مریض کو کہاں الگ تھلگ کر سکتے ہیں؟" انہوں نے ایک بچے کی تشخیص کرتے ہوئے کہا جس کے پیٹ پر سرخ چھالے تھے۔

غزہ شہر سے اے ایف پی کی فوٹیج میں عارضی پناہ گاہوں کے اردگرد کھڑے ہوئے گندے پانی کے تالاب دکھائے گئے جبکہ بچے خیموں کی قطاروں کے درمیان ننگے پاؤں گھومتے ہیں۔

ایک فلسطینی ہلالِ احمر میڈیکل سنٹر کے باہر مریض علاج کے لیے قطار میں کھڑے تھے جبکہ ابو ساریہ ایک کے بعد ایک بچے کا معائنہ کر رہے تھے۔

روبا کی بہن علاء نے "خیموں میں زیادہ ہجوم" اور اس حقیقت کو بیماری کی وجہ قرار دیا کہ "ہمیں ہفتے میں صرف ایک بار پانی ملتا ہے اور یہ صاف نہیں، نمکین (کھارا) ہوتا ہے۔"

علاء نے کہا کہ ان کے خاندان کو صفائی کی بنیادی مصنوعات حاصل کرنا بھی مشکل ہے۔

امیر ممالک میں تو چکن پاکس کو بچے کی زندگی میں ایک ناخوشگوار لیکن قابلِ انتظام معاملہ سمجھا جا سکتا ہے لیکن غزہ کے کیمپوں میں ناقص حالات کی وجہ سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ میں اس کا پھیلاؤ روکنا یا علامات سے نمٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

علاء نے کہا، "ہم تین سال سے جنگ کے درمیان زندگی گذار رہے ہیں۔ میرے والد بے روزگار ہیں اور ہم صفائی کا سامان خریدنے کے متحمل نہیں ہیں۔"

'چوہوں کے درمیان' کیسے سوئیں

سعدیہ کے جیسے خاندانوں کے لیے بنیادی احتیاط بھی آسائش بن گئی ہے۔

"ہم نے کیا قصور کیا ہے جو ہمارے ساتھ ایسا ہو رہا ہے؟" روبا نے مطالبہ کیا۔ "ہمارے پاس یہ خراشیں اور داغ ہیں۔"

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "میں ہر روز نہاتی تھی۔ لیکن اب نہ صابن ہے، نہ شیمپو۔ ہم خیموں میں رہتے ہیں اور میں چوہوں کی وجہ سے سو نہیں سکتی۔"

طبی ماہرین کہتے کہ یہ وبا غزہ کی بے گھر آبادی کو درپیش صحتِ عامہ کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں انفیکشن کو روکنا اتنا ہی مشکل ہو گیا ہے جتنا کہ اس کا علاج کرنا۔

بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ طبی سامان انتہائی ناکافی ہے۔

واٹریج نے کہا، "چکن پاکس اس کا ایک حصہ ہے لیکن اس میں سانس کے انفیکشن، دست بھی ہیں۔ اب ہمارے پاس آدھے سے زیادہ گھرانوں میں جلد کی بیماریوں، پسّو، جوؤں اور خارش کے امراض کی اطلاع ہے۔"

نیز کہا، "ان بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس وقت غزہ کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر ہے۔"

"چکن پاکس یا ان میں سے کوئی بھی بیماری تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک آپ اس کی بنیادی وجوہات کو حل نہیں کریں گے،" واٹریج نے علاقے میں مزید ادویات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا۔

"لوگوں کے رہنے کے لیے جگہ ہونی چاہیے اور وہ فرش پر، چوہوں کے درمیان نہ سوئیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں