غزہ : اسرائیلی حملوں میں تیزی، ناکہ بندی سے پولیو مہم روک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے غزہ میں جاری حملوں نےمنگل کے روز شدت اختیار کی ہے۔ وزارت صحت غزہ کے مطابق اسرائیلی حملوں اور اسرائیلی ناکہ بندی سے ادویات کی سپلائی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے اور صحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے پولیو مہم روک دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے غزہ کے 6 لاکھ سے زائد بچوں کے لیے پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

حماس کا ایک وفد منگل کے روز قاہرہ روانہ ہوا تاکہ ان نئی تجاویز پر مصالحت کاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کر سکے جو غزہ میں جنگ بندی کے لیے سامنے لائی گئی ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ کے حکام نے کہا ہے کہ پچھلے ہفتے میں حماس کی اسرائیل کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ تجاویز قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں تھی۔ تب سے اب تک مذاکرات کا سلسلہ کامیابی سے دور ہے اور کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ جبکہ اسرائیل نے مسلسل بمباری کا سلسلہ غزہ میں جاری رکھا ہوا ہے اور اس دوران سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک و زخمی کر دیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ٹینکوں اور ڈرون طیاروں سے راہداریوں پر بمباری کی ہے۔ اسرائیلی بمباری سے مکانات ، خیموں اور سڑکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مزید یہ کہ بمباری کے نتیجے میں بلڈوزر اور دیگر ایسے آلات و مشینری بھی تباہ کر دی گئی ہے جو میونسپلٹی کی ملکیت تھیں اور ان سے ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا کام لیا جا رہا تھا۔

اسرائیل نے 2 مارچ 2025 سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اس وجہ سے غزہ میں خوراک ، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے اسے قحط کا سماں بیان کرتے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں جس میں غزہ کے فلسطینی بچے تک خوراک اور دودھ سے محروم ہیں ۔

واضح رہے 18 مارچ سے لے کر اب تک 1890 فلسطینیوں کو اسرائیل نے مزید قتل کر دیا ہے۔ جبکہ اب تک فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 51266 ہو چکی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان خلیل دقران نے کہا ہے کہ ادویات کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اگر پولیو ویکسین فوری طور ہم تک نہ پہنچ سکیں تو یہ ایک بہت بڑی تباہی ہوگی۔ مریضوں اور بچوں کو کسی بھی صورت بلیک میلنگ کے لے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ خلیل دقران نے مزید بتایا کہ 60000 بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

جنگ بندی کے لیے ایک نئی تجویز کے تحت 45 دن کی جنگ بندی کے لیے کہا گیا اور اس دوران 10 زندہ قیدیوں کی رہائی کا حماس سے مطالبہ کیا گیا۔ تاہم حماس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے اور اس کے لیے قیدیوں کی رہائی کی تعداد معنی نہیں رکھتی۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کا غزہ کی ناکہ بندی کرنے کو جنگی جرم قرار دیا جس کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے سوشل میڈٰیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام کام کر رہا ہے۔

'انروا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے 'ایکس' پر منگل کے روز اپنے ایک بیان کہا ہے کہ غزہ تشویش اور کرب کی سرزمین بن چکی ہے۔ بھوک پھیل چکی ہے اور قحط کو جان بوجھ کر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاکہ دباؤ ڈالا جا سکے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں