.

پشاور: سینما گھر میں پے درپے تین دھماکے، 12 افراد جاں بحق

ترجمان تحریک طالبان نے فلم بینوں پر بم حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منگل کو پے درپے تین بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق اور کم سے کم بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پشاور کے مصروف باچا خان چوک سے ملحقہ شامی روڈ پر واقع شمع سینما میں ایک فلم کا شو جاری تھا۔اس دوران یکے بعد دیگرے تین بم دھماکے ہوئے ہیں۔گیارہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور ایک شدید زخمی اسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔

امدادی کارکنان نے بم دھماکوں کے زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور عملے کو ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔

کیپٹل سٹی پولیس افسر اعجاز احمد نے بتایا ہے کہ سینما ہال میں دھماکوں کے لیے تین گرینیڈز استعمال کیے گئے ہیں۔اس وقت قریباً اسی افراد فلم دیکھ رہے تھے۔سکیورٹی فورسز نے بم دھماکے کی جگہ کا محاصرہ کر لیا ہے اور شامی روڈ کو سیل کردیا ہے۔

ان دھماکوں سے گیارہ روز قبل پشاور کے کابلی بازار میں واقع پیکچر ہاؤس سینما میں دھماکا ہوا تھا۔فلم بینوں پر یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان جنگجوؤں اور پاکستان کی وفاقی حکومت کے مذاکرات کاروں کے درمیان ملک کے شمال مغربی علاقوں میں خونریزی کے خاتمے کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور آج منگل کو فریقین کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان دوسری ملاقات ہوئی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے پشاور میں اس بم حملے کی مذمت کی ہے اور اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے پشاور میں ان بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔