پاکستان: 3945 ارب روپے کے سالانہ میزانیے کا اعلان

سرکاری ملازمین کے لیے 10 فی صد ایڈہاک ریلیف، کم سے کم اجرت 11000 روپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کی حکمراں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اپنے دوسرے سالانہ قومی بجٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ مالی سال 15-2014ء کے اس میزانیے کا کل حجم 3945 ارب روپے ہے، اس میں کاشت کاروں، بے روزگاروں اور بے گھر افراد کے لیے مختلف اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں اور سرکاری ملازمین اور پنشنروں کو دس فی صد ایڈ ہاک ریلیف دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے منگل کی شام قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن میں ایک ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور مزدوروں کی اجرت میں بھی ایک ہزار روپے کا اضافہ کرکے اسے گیارہ ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قومی محصولات میں صوبائی حکومتوں کا حصہ 1072 ارب روپے ہو گا۔ گذشتہ مالی سال کے دوران یہ رقم 1041 ارب روپے تھی۔ بجٹ خسارے کو کم کرکے 4.9 فی صد کر دیا گیا ہے اور آیندہ مالی سال کے دوران اس کا حجم 1710 ارب روپے ہو گا۔ گذشتہ مالی سال کے میزانیے سے حکومت کو 183 ارب روپے کی رقم حاصل ہوئی ہے۔ اس لیے مجموعی بجٹ خسارے کا تخمینہ 1422 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ تقریر کے مطابق آیندہ مالی سال کے دوران قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم 1175 ارب روپے ہوگا جس میں وفاق کا حصہ 525 ارب روپے اور صوبوں کا حصہ 650 ارب روپے ہو گا۔ آیندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم رواں مالی سال سے 13 فی صد زیادہ ہے اور اس میں 192 ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔

مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں انسانی وسائل کی ترقی، ملکی وسائل پر انحصار، بہتر نظم ونسق ، توانائی ، پانی ، خوراک کے تحفظ، نجی شعبہ کے ذریعے کاروبار کے فروغ، علم پرمبنی مسابقتی معیشت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم ،صحت اور دیگر سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے معاشی میدان میں ایسے مثبت نتائج حاصل کیے ہیں جو گذشتہ چھے سات سال کے دوران حاصل نہیں کیے جا سکے تھے۔ان میں یورو بانڈ کا اجراء، تھری جی اور فور جی کی نیلامی اور عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کرنا شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یورو بانڈز کا اجراء اقتصادی محاذ پر پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، یورو بانڈ کے اجراء پر حکومت کو پہلے سال ہی بڑی کامیابی ملی ہے۔ حکومت نے پچاس کروڑ ڈالرز کا ہدف مقرر کیا تھا جس کے مقابلے میں سرمایہ کاروں نے ہمیں سات ارب ڈالرز سے زیادہ کی پیش کشیں کی ہیں جو اصل رقم سے 14 گنا زیادہ ہیں۔

انھوں نے اپنی حکومت کی اقتصادی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چھے سال میں پہلی مرتبہ معاشی ترقی کی شرح 4.14 فی صد کی سطح تک آئی ہے اور فی کس آمدن 1386 ڈالرز سالانہ ہو گئی ہے جبکہ صنعتی ترقی کی رفتار بڑھ کر 5.84 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ گذشتہ دس ماہ میں پچھلے سال کے مقابلے میں برآمدات میں ایک ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے جبکہ روپے کی قدر میں 11 فی صد اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر بڑھ کر 13 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شرح تبادلہ میں استحکام معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں