کوئٹہ: دو فوجی ہوائی اڈوں پر حملہ، آٹھ حملہ آور ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دو فوجی ہوائی اڈوں کے قریب سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران کم از کم سات حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔ چھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے بدھ کو ہوئے۔ حملہ آوروں کے پاس آٹومیٹک ہتھیار اور دستی بم تھے جبکہ وہ خودکش دھماکے میں استعمال ہونے والی جیکٹیں پہنے ہوئے تھے۔

پہلا حملہ کوئٹہ میں سمنگلی ایئر بیس کے قریب ہوا جہاں کار سوار حملہ آوروں نے پولیس پر فائرنگ کی۔ یہ ایئر بیس پاکستان ایئر فورس کے زیر استعمال ہے۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ عبدالرزاق چیمہ نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اس حملے کے دوران دو حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

انہوں نے بتایا: ’’پولیس نے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن کار سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔‘‘

عبدالرزاق چیمہ نے مزید کہا: ’’پولیس نے جوابی حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو حملہ آور ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے ساتھی فرار ہو گئے۔‘‘

کوئٹہ پولیس چیف نے کہا کہ سمنگلی ایئر بیس کے قریب حملے کے ایک گھنٹے بعد خالد ملٹری ایئر بیس کے قریب ایسی ہی کارروائی ہوئی جو پہلے حملے کے مقام سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شوٹ آؤٹ کے دوران بھی دو حملہ آور مارے گئے جبکہ چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ پولیس نے خالد ملٹری ایئر بیس کی بیرونی دیوار کے قریب ملنے والے چار بم بھی ناکارہ بنائے۔

تاہم بعد ازاں دونوں حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی کم از کم تعداد سات بتائی جا رہی ہے۔ مرنے والے تمام حملہ آور بتائے گئے ہیں۔ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ اس ائیربیس کے قریب حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ رات گئے تک جاری رہا۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے ان واقعات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان دونوں حملوں کا نشانہ فضائی اڈے تھے یا نہیں، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ تاہم بعدازاں اے ایف پی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان حملوں کا نشانہ دونوں فضائی اڈے ہی تھے۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ خالد ملٹری ایئر بیس محفوظ ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کون تھے۔

پاکستان کے پسماندہ صوبے بلوچستان کو بلوچ قبائل کی جانب سے شدت پسندی کا سامنا ہے جو وفاقی حکومت سے زیادہ سے زیادہ خودمختاری اور صوبے کے تیل و گیس کے قدری وسائل میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ چاہتے ہیں۔ اس صوبے کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے جن میں سے بیشتر کے لیے طالبان کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں