.

بلوچستان، مستونگ میں اغوا کے بعد 20 مسافر قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے دو بسوں کے کم از کم 20 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان مسافروں کو پشین سے کراچی جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا تھا۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق دہشت گردوں نے پشین سے کراچی آنے والی دو مسافر بسوں کو اغوا کرلیا جس میں سے 20 افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر فوج کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

ڈی سی مستونگ نے بتایا کہ مستونگ کےقریب کھڈ کوچہ سےمسلح افراد نے 2 بسوں سےمسافروں کواغوا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15سے 20 اغوا کاروں نے 35 مسافروں کو اغوا کیا۔ سیکیورٹی فورسز اطلاع ملنے پر علاقے میں پہنچی ںتو شرپسندوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 19 یرغمالی مسافر ہلاک ہو گئے۔

فورسز کا مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ اب تک کسی گروپ نے مسافروں کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیویز کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ پانچ مسافروں کو دہشت گردوں نے رہا کر دیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے مستونگ میں بسوں کے اغوا ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ آپریشن کی نگرانی کےلیے وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ بلوچستان مستونگ روانہ ہو گئے ہیں۔

ادھر واقعے کے خلاف ٹرانسپوٹرز نے کراچی کوئٹہ شاہراہ پر احتجاج کرتے سڑک بلاک کر دی جس سے ٹریفک جام ہو گیا۔