نوازلیگ این اے 122 اور 154 میں ضمنی انتخاب لڑے گی

عدالت عظمیٰ سے ٹرائبیونلز کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی نہ لینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 122 اور این اے 154 میں آیندہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پنجاب الیکشن ٹرائبیونلز کے حالیہ فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی لینے کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع نہیں کرے گی۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے جمعرات کو زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد ان فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان کو لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں سردار ایاز صادق کے مقابلے میں الیکشن میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے اور پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیرخان ترین سے کہا ہے کہ وہ این اے 154 سے حکمران جماعت کے امیدوار کے مقابلے میں انتخاب لڑیں۔

اس موقع پر منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت ان دونوں حلقوں میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی نہیں لے گی۔البتہ وہ ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

وزیراطلاعات نے بتایا ہے کہ سردار ایاز صادق ہی لاہور سے حکمراں جماعت کے امیدوار ہوں گے۔البتہ انھوں نے لودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقے میں ضمنی انتخاب کے لیے حکومتی جماعت کے امیدوار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سردار ایاز صادق کے وکیل اس وقت ملک سے باہر ہیں اور عدالت عظمیٰ میں الیکشن ٹرائبیونل کے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے سے متعلق فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کی جائے گی لیکن اس کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت نے مذکورہ دونوں حلقوں سے متعلق کیسوں پر الیکشن ٹرائبیونلز کے فیصلوں کے خلاف عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔پی ایم ایل این نے ضلع ہری پور میں حال ہی میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دی ہے اور وہ آیندہ انتخابات میں بھی اس کو شکست سے دوچار کرے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پی ایم ایل این ضمنی انتخابات میں عام انتخابات سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن لوٹ رہا ہے،عالمی برادری کا پاکستان پر اعتماد بحال ہورہا ہے اور غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے مگر عمران خان دھرنوں کی دھمکیوں کے ذریعے اس سازگار ماحول کو تہس نہس کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب کے الیکشن ٹرائبیونل نے بدھ کو اپنے فیصلے میں ضلع لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 سے حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے کامیاب امیدوار محمد صدیق خان بلوچ کا انتخاب کالعدم قرار دیا ہے اور اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔

محمد صدیق خان بلوچ گذشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے لیکن وہ بعد میں پی ایم ایل این میں شامل ہوگئے تھے۔ان کے حق میں 86,177 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کے امیدوار جہانگیر خان ترین نے 75,955 ووٹ حاصل کیے تھے۔انھوں نے کامیاب امیدوار کے خلاف انتخابی عذرداری دائرکی تھی اور اس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ صدیق بلوچ کی میٹرک ،انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی ڈگریاں جعلی ہیں اور انھوں نے پولنگ کے روز دھاندلی اور دوسرے غیر قانونی کام کیے تھے۔

گذشتہ ہفتے کے روز پنجاب الیکشن ٹرائبیونل نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے انتخاب کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا اور این اے 122 پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔سردار ایاز صادق پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کے مقابلے میں کامیاب ہوئے تھے۔عمران خان نے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا تھا اور انھوں نے پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے تھے۔

اس سے پہلے انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرنے والے الیکشن ٹرائبیونل فیصل آباد نے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر اسمبلی سے باہر کردیا تھا لیکن خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر عدالت عظمیٰ پاکستان نے الیکشن ٹرائبیونل کے دوبارہ انتخاب کرانے سے متعلق فیصلے کو معطل کردیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ابھی ان کی درخواست پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں