تاریخ میں پہلی بار قبائلی اقلیتی باشندے کو پاکستانی شہریت مل گئی

قبائلی اقلیتی باشندوں کی شہریت کی راہ ہموار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی باشندوں کو ملک کی مستقل شہریت دیے جانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ شمال مغربی قبائلی علاقے خیبر سے تعلق رکھنے والے شہریار مسیح پہلے قبائلی اقلیتی باشندے ہیں جنہیں پاکستان کی مستقل شہریت دی گئی ہے۔ شہریار خان مسیح کو پاکستان کی شہریت ملنے کے بعد قبائلی علاقوں میں رہنے والے پچاس ہزار عیسائیوں، ہندوؤں سکھوں اور دیگر اقلیتی اقوام کے باشندوں کی شہریت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

خیبر ایجنسی کے ایک مقامی عہدیدار ناصر خان نے بتایا کہ شہر یار مسیح پہلے اقلیتی باشندے ہیں جنہیں قبائلی علاقوں سے پاکستان کی مستقل شہریت دی گئی ہے۔ شہر یار مسیح پاکستان کے سرکاری سطح پر حقوق اور مرعات سے مستفید ہو سکیں گے۔ شہریار کے والد نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے پاکستان کی شہریت حکومت کی جانب جاری کردہ نئی پالیسی کے تحت حاصل کی ہے۔ حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں کے غیر بندو بستی علاقوں میں رہنے والے اقلیتی باشندوں کو مستقل شہریت دیے جانے کی شروعات ایک مستحسن اقدام ہے جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زاید قبائلی اقلیتی شہریوں کو پاکستان کی شہریت دی جا سکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں