ترک صدر کی پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترک صدر رجب طیب ایردوآن پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

راول پنڈی کے نور خان ائیر بیس پر وزیراعظم میاں نواز شریف ،ان کی اہلیہ کلثوم نواز ،ان کی صاحبزادی مریم نواز اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ترک صدر ، ان کی اہلیہ ایمن اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر کے ہمراہ وزراء ، سینیر عہدے داروں اور ترکی کی کاروباری برادری پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان کے دورے پر آیا ہے۔

جناب طیب ایردوآن پاکستانی صدر ممنون حسین اور وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور ان سے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وہ جمعرات کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ان کے پارلیمان سے خطاب کے بائِکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان متنازعہ وزیراعظم کی موجودگی میں مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

ترک صدر کا پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے یہ تیسرا خطاب ہوگا۔وہ لاہور بھی جائیں گے جہاں شاہی قلعہ میں وزیراعظم نواز شریف ان کے اعزاز میں ضیافت دیں گے۔

وہ ایسے وقت میں یہ دورہ کررہے ہیں جب ملک میں قائم پاک ترک اسکولوں کے ترک عملہ کو پاکستانی وزارت داخلہ نے 20 نومبر تک واپس چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان میں 28 پاک ترک اسکول اور کالجز چل رہے ہیں اور ان میں ترکی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور دوسرے عملہ کی تعداد 108 ہے۔اسکول کی انتظامیہ نے وزارت داخلہ کے اس حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکم امتناعی کے لیے ایک درخواست دائر کردی ہے۔

ان اسکولوں کا مبینہ طور پر امریکا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ ان پر ترک صدر کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کا سرغنہ ہونے کا الزام ہے۔ ترکی امریکا سے متعدد بار انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے لیکن امریکا کا کہنا ہے کہ وہ علامہ گولن کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر بے دخل نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں