جہانگیر ترین نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے عدالت ِ عظمیٰ سے نااہلی کے ایک روز بعد اپنے پارٹی عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سے استعفا دینے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ عمران خان کو پاکستان کا آیندہ وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے جمعہ کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق رکن قومی اسمبلی محمد حنیف عباسی کی دائر کردہ ایک رٹ درخواست پر جہانگیر ترین کو تاحیات قومی اسمبلی کی رکنیت یا کسی عوامی عہدے کا انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دے دیا تھا۔

انھوں نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے صرف ایک قانونی اصطلاح کی تفہیم کی بنا پر انھیں نااہل قرار دیا ہے۔جہا نگیر ترین کے بہ قول عدالت ِعظمیٰ میں پی ٹی آئی کے لیڈروں کو سکروٹنی کے جن معیارات کی چھلنی سے گزرنا پڑا ہے، ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

انھوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے :’’ یہ بہت ہی مایوس کن معاملہ ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے پارلیمنیٹرین کو محض فنی بنا پر نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔چونکہ انھیں پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دیا ہے ،اس لیے وہ اس حکم پر سرتسلیم خم کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید لکھا ہے:’’میں نے اپنی تمام زندگی اصولوں اور اخلاقی اقدار کی پاسداری میں گزاری ہے۔اس لیے اخلاقی طور پر میرے پاس اس بات کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا کہ میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر برقرار رہوں‘‘۔

دریں اثناء جہانگیر ترین نے اپنے استعفے کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مؤخر الذکر نے اوّل الذکر کا استعفا منظور کر لیا ہے یا نہیں۔

عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بینچ نے گذشتہ ماہ حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف نااہلی کے لیے دائر کردہ درخواست پر اس مقدمے کی سماعت مکمل کر لی تھی اور اس کا فیصلہ گذشتہ روز سنایا ہے۔اس نے عمران خان کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کردیا ہے جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کی دفعہ 62 (1) (ایف) اور عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی شق 99 کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جہانگیر ترین اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے تمام اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے تھے اور انھوں نے عدالت میں بھی نادرست بیانات جمع کرائے تھے۔اس فیصلے کے چند گھنٹے کے بعد ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154( لودھراں) سے ان کی رکنیت کا نوٹی فیکشن واپس لے لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں