زینب قتل کیس: گرفتار ملزم کے 37 بنک کھاتے، عالمی پورن مافیا کا رکن؟
ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں انکشاف کے بعد سپریم کورٹ میں ثبوت پیش کردیے
پاکستان کے ایک معروف ٹیلی ویژن اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کے بارے میں نئے ہوشربا انکشافات کیے ہیں اور اس سے متعلق بعض ثبوت عدالتِ عظمیٰ میں پیش کر دیے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے بدھ کی شب اپنے پروگرام میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ملزم ایک پورنو گرافی گینگ کا فعال رکن ہے اور اس کے مختلف بنکوں میں 37 اکاؤنٹس ہیں۔ ان میں بعض غیرملکی اکاؤنٹس ہیں ۔ان کے بہ قول ملزم کے ایک بنک کھاتے میں 15 لاکھ یورو کی رقم منتقل کی گئی تھی۔
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ان چشم کشا انکشافات کے بعد عدالت میں ثبوت پیش کرنے کے لیے آج جمعرات کو طلب کیا تھا۔انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس تمام دھندے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک وزیر اور ایک اہم شخصیت بھی ملوث ہے ۔انھوں نے اس کا نام نہیں بتایا بلکہ جج صاحبان کو ایک کاغذ پر لکھ کر پیش کردیا۔
انھوں نے بعد میں عدالتِ عظمیٰ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے دعوے کے حق میں بعض ثبوت پیش کردیے ہیں اور بعض ثبوت وہ آیندہ سوموار کو کیس کی سماعت کے موقع پر پیش کریں گے۔انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو ملزم عمران علی کے تحفظ کی ہدایت کی جائے کیونکہ اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس دھندے میں ملوث گینگ کے بڑے لوگ اس کو پولیس کے زیر حراست مروا سکتے ہیں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے ٹی وی شو کو عدالت میں دیکھا تھا اور اس کے بعد آئی جی پنجاب عارف نواز خان اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ان کے فراہم کردہ ثبوتوں کی مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اسماء حامد نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بدھ کی شب یہ شو نشر ہونے کے بعد ایک چھے رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ زینب قتل کیس اور دوسری بچیوں سے زیادتی کے بعد قتل کے الزام میں زیر حراست ملزم ذہنی طور پر بالکل تندرست ہے اور وہ ایک بین الاقوامی رنگ کا رکن ہے۔اس کو ملک کی ایک اہم شخصیت اور ایک وزیر کی سرپرستی حاصل ہے۔تاہم انھوں نے ملزم کے جن بنک کھاتوں کا انکشاف کیا ہے،اس حوالے سے کسی بنک نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے منگل کی شام ایک نیوز کانفرنس میں ملزم عمران علی کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔اس کی گرفتاری سی سی ٹی وی کی فوٹیج اور اس کی جیکٹ کے دوبٹنوں کی مدد سے عمل میں آئی تھی۔اس دوران میں اس کا ڈی این اے بھی تمام مقتولہ بچیوں کے ڈی این اے کے نمونوں سے مل گیا تھا ۔
ملزم قصور شہر میں مقتولہ ننھی زینب کے محلے ہی کا رہنے والا ہے۔اس نے گذشتہ دو سال کے دوران میں چھے، سات بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا تھا اور ان کی لاشیں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی تھیں یا انھیں کسی اور جگہ ٹھکانے لگا دیا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ان تمام گھناؤنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔اس وقت وہ چودہ روز کے ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔