پاکستان : جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات کے اعلان کا خیرمقدم
پاکستان نے سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کے نتائج اور مشتبہ ملزموں کے خلاف مقدمہ چلانے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ قتل کے واقعے میں ملوث مشتبہ ملزموں اور ان کے ساتھیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عمل سے سعودی عرب کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ انصا ف کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔
فرانس کی وزارت خارجہ نے بھی سعودی شہری جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزمو ں کا معاملہ عدلیہ کے سپرد کرنے کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کو درست سمت کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔
مملکت بحرین نے سعودی عرب کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کے ضمن میں تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ منامہ میں جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے اقدامات اس واقعے میں ملو ث تمام ملزموں کو سزا دلانے کے لیے عزم کے مظہر ہیں۔
اس نے خاشقجی قتل کیس کو سیاسی رنگ دینے یا ایک بین الاقوامی معاملہ بنانے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور سعودی عرب کے خلاف الزام تراشی کی مذمت کی ہے ۔اس نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہی خطے میں امن وسلامتی اور ا ستحکام کا ضامن ہے۔
عرب لیگ ، خلیج تعاون کونسل اور فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی سعودی عرب کے موقف کی تائید کی ہے۔عرب لیگ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اقدمات سے اس کی خاشقجی قتل کیس میں دلچسپی کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور وہ ان کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا چاہتا ہے۔
فلسطینی صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں سعودی عدلیہ کی آزادی اور لگن پر اعتماد ہے اور ہم خاشقجی کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔