مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست احتساب عدالت نے خارج کر دی
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کرخارج کر دی۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکا کہنا تھا کہ جب تک کیس کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس وقت تک یہ عدالت کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔
جمعہ کومریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کرنے سے متعلق کیس کی سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر کی عدالت میں ہوئی۔ مریم نواز شریف سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت میں پیش ہوئیں۔ ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی۔ مریم نواز نے کہا تھا کہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں جبکہ عدالت کا خصوصی دائرہ اختیار ہے۔ سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کی فرد جرم سے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کی د فعہ کو حزف کر دیا گیا تھا تاہم اب عدالت سے درخواست ہے کہ وہ جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملہ پر مریم نواز کا ٹرائل کرے اور انہیں سزا دے۔
اس موقع پر مریم نواز کی جانب سے خواجہ امجد پرویز نے دلائل دیئے اور مئوقف اختیار کیا کہ نیب جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر عدالتی فیصلہ کے 30 دن کے اندر کارروائی کے لئے درخواست دائر کر سکتا تھا، تاہم نیب نے ایسا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب نے ایک سال بعد مریم نواز کے خلاف کارروائی کے لئے درخواست دائر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 روز کے اندر عدالت اپنا اختیار استعمال کر سکتی تھی تاہم اب یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد احتساب عدالت دوبارہ اس معاملہ پر کارروائی کر سکتی ہے۔ امجد پرویز کا کیا کہنا تھا کہ عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرے۔
اس دوران مریم نواز نے نیب پراسیکیواٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایک سال کا عرصہ کیوں لگا عدالت کو یاد دلانے میں؟ نیب پراسیکیواٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہی بتا رہا ہوں۔ مریم نواز نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ نے تھوڑی سی دیر کردی، بس ایک سال۔ اس پر عدالت نے انہیں کہا کہ آپ اپنے وکلاء کے ذریعہ ہی بات کریں۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ دیرآید، درست آید، مریم نواز کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہروقت بندہ درست نہیں آتا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے عدالت اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتی ۔ عدالت نے نیب کو ہدایت کی کہ جب تک ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں زیر سماعت ہیں آپ درخواست دائر نہیں کر سکتے۔
مریم نواز شریف کی عدالت میں پیش کے موقع پرپاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال، مرتضیٰ جاوید عباسی،(ن) لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب، محمد زبیر عمر، ڈاکٹر مصدق ملک، سینیٹر پرویز رشید سمیت دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مریم نواز جب عدالت پہنچیں تو ان کے شوہر کیپٹن (ر)محمد صفدر ان کی گاڑی چلا رہے تھے۔ مریم نواز شریف کی عدالت میں پیشی کے موقع احاطہ عدالت کے باہر (ن) لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
ادھرمریم نواز نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے جتنے قائدین کو گرفتار کرنا ہے کرلیں، ڈرنے والے نہیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم سے بات چیت کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن ہم نے بات چیت نہیں کی کیونکہ میں اور میاں صاحب بات چیت کے لوازمات پورے نہیں کرسکتے۔
اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ وہ کون سے لوازمات ہیں جو پورے نہیں کر سکتے ؟مریم نواز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے لیے اصولوں کی قربانی دینی پڑتی ہے جس کے لیے تیار نہیں۔ فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے ، جب کہ غیر متعلقہ افراد کو عدالت کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔
مریم نواز احتساب عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئیں تو انہوں نے سیاہ رنگ کا قمیض شلوار زیب تن کیا تھا جو توجہ نگاہ بن گیا۔ مریم نواز شریف کی سیاہ قمیض کے دامن پر ان کے والد میاں نواز شریف کی چھپی تصویر پر مطالبہ درج ہے کہ بے گناہ نواز شریف کو رہا کرو۔ اس کے نیچے یہی مطالبہ FREE NAWAZ SHARIF انگریزی میں تحریر ہے۔
جمعہ کو اپنی پیشی کے حوالے سے انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے نام پیغام تحریر کیا ہے کہ آپ کا بھی اور آپ کے توسط سے ان سب کا جن کی شفقت اور دعاوں بھرے بے شمار پیغامات مجھے موصول ہو رہے ہیں بہت بہت شکریہ، یہی محبت اور سپورٹ میرا سرمایہ ہے، آپ سب سلامت رہیں۔