.

پاکستانی خاتون وکیل ندا عثمان چوہدری کے لیے آسٹریا میں جسٹیشیا ایوارڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی نوجوان خاتون وکیل رہنما ندا عثمان چوہدری کو آسڑیا کے بین الاقوامی ادارے ’ویمن اِن لا‘ نے اکیڈیمیا کی کیٹیگری میں ’جسٹیشیا ایوارڈ‘ سے نوازا ہے۔

ندا عثمان جنوبی ایشیا کی واحد خاتون وکیل رہنما ہیں جنھیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ پھر انھوں نے فائنل میں جگہ بنائی اور اس کے بعد انھیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ قانون کے شعبہ میں خواتین وکلا کے لیے نئے مواقع، نمائندگی اور ترقی کے لیے کام کرتی ہیں۔

ایڈووکیٹ ندا عثمان کی نامزدگی، برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، جنوبی افریقہ کی ’وومن ان لا‘ کی رہنما آشا سنگھانیہ نے کی تھی۔ آشا سنگھانیہ کا کہنا تھا کہ وہ ندا کے کام سے بہت متاثر تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ندا نے بہت کم عمری ہی میں پاکستان کی خواتین اور قانون کے شعبے سے منسلک خواتین کے لیے کافی کام کیا اور اسی وجہ سے انھیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا۔

ندا عثمان چوہدری پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر محمود اسلم کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ کامیڈی ڈرامے ’بلبلے‘ نے محمود اسلم کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔

ایڈووکیٹ ندا نے ابتدائی تعلیم لاہور ہی سے حاصل کی تھی۔ ایل ایل بی آنرز اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد انھوں نے پریکٹس شروع کی اور ساتھ ساتھ انھوں نے خواتین وکلا کے مسائل کے حل اور ان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر کام شروع کیا۔

وہ سنہ 2018 سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صنفی مساوات کمیٹی کی بانی رکن اور چیئر پرسن ہیں۔ وہ قانون اور انصاف کی وزارت اور گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کے ساتھ قانون کی شراکت داری کے پراجیکٹ میں خواتین کی قیادت بھی کر رہی ہیں۔

سنہ 2021 میں صنفی سکیورٹی پراجیکٹ کے ذریعہ 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل تھیں۔ اس سے قبل انھوں نے سنہ 2018 میں ’سیوا گیپ ایمرجنگ ویمن لیڈر‘ ایوارڈ بھی جیتا تھا۔