.

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی رشتہ ازدواج میں منسلک، شوہر کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے پاکستانی شہری عصر ملک کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ ایجاب وقبول کی مذہبی رسم برمنگھم میں ایک مختصر تقریب میں ادا کی گئی۔ ملالہ نے ٹوئٹر پر اپنی شادی کی اطلاع دی۔

سترہ برس کی عمر میں نوبل انعام حاصل کرنے والی 24 سالہ ملالہ یوسف زئی نے اپنی شادی کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا: "آج میری زندگی کا بہت قیمتی دن ہے۔ عصر اور میں ایک دوسرے کے شریک حیات بن گئے ہیں۔ ہم نے برمنگھم میں اپنے خاندانوں والوں کے ساتھ گھر پر نکاح کی ایک چھوٹی سی تقریب کی۔ ہمارے لیے دعا کیجیے گا۔ ہم اپنے آگے کے سفر میں اکٹھے چلنے کے لیے پرجوش ہیں۔"

ملالہ یوسف زئی کی ٹوئٹ کے بعد ان کو مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے انھیں اور ان کے شوہر عصر ملک کو ٹوئٹ کر کے دعائیہ کلمات سے نوازا۔

ملالہ کے دلہا کون؟

ملالہ یوسف زئی کرکٹ کی بڑی مداح ہیں۔ اپنے متعدد انٹرویوز میں وہ اس کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں۔ عصر ملک سے ان کی قربت کی ایک وجہ کرکٹ بھی رہی۔

عصر ملک پاکستان کرکٹ بورڈ کے 'ہائی پرفارمنس ' کے جنرل مینیجر ہیں۔ وہ اس سے قبل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کے ساتھ بطور آپریشنل منیجر کام کر چکے ہیں اور وہ پلیئر مینجمنٹ ایجنسی بھی چلاتے تھے۔

انہوں نے 2012 میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے معاشیات اور سیاسیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔

عصر ملک نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ملالہ یوسف زئی کے ساتھ نکاح کی تصاویر جاری کی ہیں۔ اس سے قبل 2019 میں ورلڈ کپ کے دوران بھی انہوں نے ملالہ کے ساتھ اپنی ایک تصویر انسٹاگرام پر جاری کی تھی، جس میں ان دونوں کے علاوہ پاکستانی اسپنر ثقلین مشتاق بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

ملالہ کا متنازع انٹرویو

ملالہ چند مہینے قبل اس وقت تنازعے میں گھر گئی تھیں، جب انہوں نے ایک برطانوی جریدے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کی زندگی میں اگر کوئی فرد آئے تو اس سے شادی کرنا کیوں ضروری ہے، صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ حالانکہ ان کی والدہ اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتیں۔ ملالہ کے بقول، ''میری ماں کہتی ہیں، ایسی بات کہنے کی جرات بھی مت کرنا، تمہیں شادی کرنی ہوگی، شادی خوبصورت رشتہ ہے''۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ یونیورسٹی کے دوسرے برس تک ان کا خیال تھا کہ وہ کبھی شادی نہیں کریں گی۔ بقول ان کے، کبھی بچے نہیں ہوں گے اور وہ بس کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ لیکن وقت کے ساتھ انسان بدل جاتا ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا پارٹنر ان کو چاہنے والا، ان کو سمجھنے والا اور ان کا خیال رکھنے والا ہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ رومانی تعلقات کے بارے میں نروس ہیں۔ بقول ان کے، اس بارے میں کوئی کیسے یقین رکھے کہ کسی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس انٹرویو پر کافی تنقید بھی ہوئی تھی۔ تاہم ان کے والد ضیاء الدین یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ملالہ کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ملالہ کے نکاح کے بعد ضیاء الدین نے ایک ٹوئٹ کرکے کہاکہ وہ اس وقت اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا،"جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں، ہم مسرت اور شکر گزاری کے جذبوں سے سرشار ہیں۔"

ملالہ یوسف زئی 12 جولائی 1997 کو سوات میں پیدا ہوئیں۔ سن 2012 میں طالبان کی فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد وہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدو جہد کی علامت بن گئیں۔ ملالہ سر میں گولی لگنے کے بعد انگلینڈ علاج کے لیے گئیں جہاں انہوں نے سکونت اختیار کرلیا اور کچھ عرصہ قبل آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔

ملالہ کو سن 2014 میں،جب ان کی عمر صر ف17برس تھی، بھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

ملالہ اپنی 'بیسٹ سیلنگ 'کتاب ' آئی ایم ملالہ'کے بعد مزید دو کتابیں لکھ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی پربننے والی ایک دستاویزی فلم میں بھی کام کیا ہے۔ انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے 'میسنجر آف پیس' بھی نامزد کیا گیا تھا۔