وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کی توجہ افغانستان کی صورت حال کی جانب مبذول کرانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور قریبی ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے افغان بھائیوں کی انسانی بنیاد پرامداد کے لیے بھرپور کاوشیں بروئے کارلارہا ہے۔
انھوں نے یہ بات ہفتے روزاسلام آباد میں افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ امیرخان متقی سے ملاقات میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیرمعمولی اجلاس کا انعقاد ان ہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اس اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کو پیغام دے رہے ہیں کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے افغانستان میں امن واستحکام کے لیے آگے بڑھیں۔افغانستان میں قومی اتحاد کی حامل حکومت کا قیام اور بنیادی انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کی پاسداری افغان حکومت کے مفاد میں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دورۂ کابل کے موقع پر پاکستان کی جانب سے جذبۂ خیرسگالی کے تحت 5 ارب کی امداد کا اعلان کیا تھا۔اس کے علاوہ افغانستان کو خوراک، ادویہ اور پچاس ہزار میٹرک ٹن گندم کی شکل میں انسانی امداد مہیا کرنے کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان آیندہ سال مارچ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کوتیار ہے،یکے بعد دیگرے او آئی سی کےوزرائے خارجہ کونسل کے دواجلاسوں کی میزبانی، مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی سنجیدگی کامظہر ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال کے بعد قیام امن کی امید ہمیت کی حامل ہے،اس موقع کو ضائع نہیں کیا جاناچاہیے۔افغانستان کے معاشی طور ناکام ہونے اور دیوالا نکلنے کے سب کے لیے یکساں مضمرات کا سبب بنے گا۔
انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مسلسل اورغیر متزلزل حمایت اوآئی سی کا شکریہ ادا کیا۔افغانستان کے نگران وزیرخارجہ امیرخان متقی نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس میں مدعو کرنے پر وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔