’’سپریم کورٹ ریاستی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ ’عدالت پالیسی معاملات کی تحقیقات میں نہیں پڑنا چاہتی۔‘

اسلام آباد میں منگل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ڈپٹی اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس پر سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت کی توجہ صرف ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر ہے۔ عدالت کی ترجیح ہے کہ صرف اس نقطے پر ہی فیصلہ ہو۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ عدالت ریاستی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے صرف اقدامات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔ عدالت پالیسی معاملات کی تحقیقات میں نہیں پڑنا چاہتی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام فریقین کو کہیں گے کہ اس نقطے پر ہی توجہ مرکوز کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں