امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ پاکستان سے انسداد دہشت گردی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
امریکی وزیرخارجہ ٹونی بلنکن نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے بات ہوئی۔ رواں برس پاک امریکا تعلقات کے 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔
سیکرٹری خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سے باہمی تعلقات کومزید مضبوط کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انسداد دہشت گردی، افغانستان میں استحکام اور تجارت سمیت دیگر امور پر دونوں ممالک کے تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
Spoke with Foreign Minister @BBhuttoZardari today. This year marks the 75th anniversary of U.S.-Pakistani relations, and we're committed to strengthening our relationship and our cooperation on Afghan stability, combatting terrorism, and expanding commerce #PakUSAt75
— Secretary Antony Blinken (@SecBlinken) May 6, 2022
علاوہ ازیں جمعے کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ نے بلاول بھٹو کو رواں ماہ کے آخر میں کورونا پر ہونے والے ورچوئل اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اس کے علاوہ 18 مئی کو نیویارک میں گلوبل فوڈ سکیورٹی کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ جمعرات کو واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ بارڈر سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سمیت ’باہمی مفادات‘ کے امور پر کام جاری رکھنا چاہتا ہے۔
Received call from @SecBlinken grateful for warm felicitations on my assumption of office. Exchanged views on:
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) May 6, 2022
-Strengthening mutually beneficial, broadbased relationship
-Promotion of peace,development & security
-Agreed engagement with mutual respect is the way forward 🇺🇸🤝🇵🇰
’ہم دو طرفہ تعلقات کی قدر کرتے ہیں۔ ہم اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ ان معاملات پر کام جاری رکھنا چاہتے ہیں جہاں ہمارے باہمی مفادات ہیں۔ ان میں انسداد دہشت گردی شامل ہے۔ ان میں بارڈر سکیورٹی بھی شامل ہیں۔‘
نیڈ پرائس نے گذشتہ ماہ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے خودکش دھماکے کی بھی ’شدید مذمت‘ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی جگہ دہشت گرد حملہ انسانیت کی توہین ہے، لیکن ایک یونیورسٹی یا عبادت گاہ یا ایسے ہی کسی مقام کو نشانہ بنانا صحیح معنوں میں انسانیت کی توہین ہے۔