پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے درمیان نئے قرضے کے اجراء کے لیے بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
پاکستان کی قومی معیشت اس وقت ملکی قرضوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئے افراط زراورڈالر کے مقابلے میں روپے کی روزبروز گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے سخت دباؤ کا شکار ہے اور اس کو سنبھالا دینے کے لیے پاکستان عالمی مالیاتی اداروں اور دولت مند دوست ممالک سے مدد کا خواہاں ہے۔
پاکستان کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے دوحہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اگلے ہفتے تک جاری رہیں گے۔آئی ایم ایف سے مالیاتی پیکج کے اجراء میں ایک اہم نکتہ حکومت کی جانب سے مختلف اشیاء پر دیاجانے والا زرتلافی (سب سڈی) ہے۔آئی ایم ایف خاص طور پر ایندھن اور بجلی پر دیے جانے والے زرتلافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں فریق درمیانی راستہ تلاش کریں۔
Talks with the IMF Mission started today. Finance Minister Mr. Miftah Ismail, MoS Dr. Aisha Ghous Pasha, Finance Secretary Hamed Yaqoob Shaikh, Acting Governor SBP Dr. Murtaza Syed, Chairman FBR Mr. Asim Ahmad and senior officers from Finance Div joined vitually.@MiftahIsmail
— Ministry of Finance (@FinMinistryPak) May 18, 2022
ماہر اقتصادیات شاہ رخ وانی نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کو یہ باور کرانے کی کوشش کرے گی کہ ملک میں سیاسی استحکام کے مقاصد کے لیے بعض زرتلافی کو برقراررکھنا ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف ممکنہ طور پر بجا طور پر یہ کہے گا کہ یہ ناقابل برداشت ہیں اورانھیں واپس لیا جانا چاہئے تاکہ تجارت اور بجٹ خسارے کو قابل انتظام بنایا جا سکے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے 2019 میں چھے ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج پر دست خط کیے تھے لیکن اس پر کبھی مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا کیونکہ ان کی حکومت نے کچھ سبسڈی میں کمی یا خاتمے اور محصولات اور ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کے معاہدوں سے انحراف کیا تھا۔
نئے وزیر خزانہ کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں آئی ایم ایف نے اپنے قرض پروگرام کے تسلسل کو ایندھن پر سبسڈی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔اس کو پچھلی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارت خزانہ کی جانب سے بھیجی گئی حالیہ تجاویز(سمریوں) کو مسترد کردیا ہے۔
پاکستان کواب تک آئی ایم ایف 3 ارب ڈالر وصول ہو چکے ہیں، یہ پروگرام رواں سال کے آخر میں ختم ہونے والا ہے۔حکام جون 2023 تک پروگرام میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے اجراء کے خواہاں ہیں۔
گذشتہ ماہ عدم اعتماد کے ووٹ میں عمران خان کوہٹانے کے بعد اقتدار سنبھالنے والے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ڈوبتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی لڑکھڑاتی حکومت سخت فیصلے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واشنگٹن میں ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا کے نائب ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی انتظامیہ ہے جس نے بالآخر معاشی ریلیف لانے کے لیے سخت سیاسی اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن آئی ایم ایف کے پاس جا کراسے بالکل یہی قربانی دینا ہوگی۔