پاکستان کے پنجاب کے ضلع گجرات میں پولیس نے اتوار کے روز بتایا کہ اس نے دو ہسپانوی بہنوں کے قتل میں مبیّنہ طور پر ملوث چھے افراد کوگرفتارکیا ہے۔ان دونوں بہنوں کومبیّنہ طور پر اپنے شوہروں کو اسپین لے جانے میں ناکامی پرضلع گجرات کے ایک گاؤں میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تھا۔
پنجاب پولیس نے ایک ٹویٹ میں اس افسوس ناک واقعے میں ملوّث ماسٹرمائنڈ سمیت چھے افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق دونوں بہنیں اپنی جبری شادیوں کے خلاف تھیں اور مبیّنہ طورپر انھیں ان کے بھائی اورچچا نے قتل کیا تھا۔پنجاب کے انسپکٹرجنرل پولیس نے واقعہ کا نوٹس لینے کے بعد گجرات کے ضلعی پولیس افسرکو مجرموں کو گرفتار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔
گجرات پولیس نےافسوسناک واقعہ میں ملوث ماسٹر مائنڈ سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا.ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول بہنیں خاندان میں اپنی زبردستی شادیوں کے خلاف تھیں جس پر مبینہ طور پر بھائی اورچچا نےانہیں قتل کیا۔IG پنجاب نےنوٹس لیتے ہوئے DPOگجرات کو ملزمان کی گرفتاری کاٹاسک سونپا تھا https://t.co/q1yXJKkSaw pic.twitter.com/r3GhGaI872
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) May 22, 2022
جمعہ کے روزعروج عباس اورانیسہ عباس (عمریں بالترتیب 21 اور 23 سال) اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔انھیں گولی مارکرہلاک کرنے سے پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں لڑکیوں کی شادی ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل پاکستان میں ان کے کزنوں سے ہوئی تھی لیکن وہ اپنے اپنے شوہروں کواسپین میں ان کے ساتھ آباد ہونے کے لیے ویزا حاصل کرنے سے قاصررہی تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ ان کے سسرالیوں کوشُبہ تھاکہ انھوں نے جان بوجھ کراپنے شوہروں کے ویزے کے طریق کار میں تاخیر کی ہے۔ پولیس کے مطابق بہنوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ فرانزک ماہرین کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اکٹھے کیے تھے۔
ہفتہ کے روزپولیس نے سات نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ان میں خواتین کے چچاراجاحنیف عرف گوگا جومقتولہ انیسہ کا سسر بھی ہے،اس کی ساس فرزانہ حنیف،اس کے شوہرعتیق، عروج کے شوہرحسن،اس کے سسر اورنگ زیب، مقتولہ کے بھائی قصید حنیف اور دو نامعلوم ملزمان شامل ہیں۔
یہ واقعہ ضلع گجرات کے تھانہ گلیانہ کی حدود میں پیش آیا تھا۔پولیس کے اے ایس آئی ندیم کی رپورٹ پرتعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفاعت کے تحت اس مقدمہ کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کی گئی تھی جبکہ مقتولہ بہنوں کی والدہ نے اپنی بیٹیوں کے قتل کے کیس میں شکایت کنندہ(مدعیہ) بننے سے انکار کردیا تھا۔
گجرات کے ضلعی پولیس آفیسر عطاء الرحمان نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ معافی یا مفاہمت سے بچنے کے لیے لڑکیوں کے خاندان کے کسی فرد کی رپورٹ پر مقدمہ درج کرنے کے بجائے خود مدعی اور شکایت کنندہ بن جائے۔
دریں اثناء گجرات پولیس کے ایک اہلکارنے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قتل ہونے والی خواتین اپنے کزنوں سے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھیں کیونکہ وہ مبیّنہ طور پر ضلع منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانیوں کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھیں جو اسپین ہی میں آباد تھے۔ تاہم اہل خانہ نے انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی اورانھیں پاکستان لے آئے جہاں قریباً ایک سال قبل ان کے نکاح ناموں کا اندراج کیا گیا تھا۔
گجرات پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹوں سے پتا چل جائے گا کہ آیا دونوں خواتین دم گھٹنے سے ماری گئی تھیں یا گولیوں سے،کیونکہ ان کے گلے میں تشدد کے نشانات بھی تھے۔