کراچی:عیدالاضحیٰ کے دوسرے روزمسلسل بارش،6 افراد ہلاک، شہرکے کچھ حصے زیرِآب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں پیرکے روز مسلسل بارش کے سبب پانچ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اورشہر کے متعدد علاقے زیرآب آ گئے ہیں جبکہ عیدالاضحیٰ کے دوسرے روزشہر کے بہت سے باسی بجلی سے محروم رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے سے ایک خاتون سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں اورایک شخص دیوار گرنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کی مزید تفتیش جاری ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے شہرکے برساتی نالوں کو صاف کرنے کے دعووں کے باوجودرات بھر بارش کی وجہ سے سڑکوں اور محلوں میں پانی جمع ہو گیا اور اس نے اگست 2020 میں ہونے والی تباہ کن موسلادھاربارش کی یاد تازہ کردی ہے۔

سوشل میڈیا پرشہریوں نے طویل دورانیے تک بجلی کی بندش اور سڑکوں کے ’’دریاؤں‘‘میں تبدیل ہونے کی شکایت کی ہے۔کراچی کے منتظم مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’’تین گھنٹےمیں کراچی کے بعض علاقوں میں 126 ملی میٹرتک بارش ہوئی ہے‘‘۔

انھوں نے کہاکہ ’’ندی نالوں میں پانی بہہ رہا ہے لیکن یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔پمپنگ اسٹیشن بھی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ہم صورت حال سے نمٹنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔اس وقت وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم میدان میں ہے‘‘۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پی اے ایف مسرور بیس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش (119.5 ملی میٹر) ہوئی ہے۔اس کے بعد ڈی ایچ اے فیز 2 (106.6 ملی میٹر)، قائدآباد (76 ملی میٹر)، پی اے ایف فیصل بیس (65 ملی میٹر)، اورنگی ٹاؤن (56.2 ملی میٹر)، پرانا ہوائی اڈے کے علاقہ میں (49.8 ملی میٹر)، گلشن حدید (46.5 ملی میٹر)، ناظم آباد (31.8 ملی میٹر)، جناح ٹرمینل (29.6 ملی میٹر)، یونیورسٹی روڈ (14.8 ملی میٹر)، سرجانی ٹاؤن (14.4 ملی میٹر)، گڈاپ ٹاؤن (9.2 ملی میٹر)، نارتھ کراچی (2.3 ملی میٹر) اور سعدی ٹاؤن میں (1.1 ملی میٹر) بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ٹریفک پولیس نے بتایا ہے کہ آبدوزچوک انڈرپاس، کے پی ٹی انڈرپاس اورعبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔بارش رکنے کے بعد دوپہر تک کئی علاقے پانی سے بھرے ہوئے تھے۔سندھ سیکرٹریٹ کا کبوتر چوک سیلاب زدہ علاقوں میں شامل تھا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی میں طوفانی بارشوں سے ہونے والے جانی نقصان پرانتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ سے بات کی ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے،سندھ حکومت اس موقع پروزیراعلیٰ کی قابل قیادت میں معمول زندگی کوبحال کرنے میں کامیاب ہوگی۔


میڈیا بریفنگ میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے ضلع جنوبی کے مختلف علاقوں میں 15گھنٹے کےاندر قریباً 232 ملی میٹریعنی نوانچ بارش ہوئی ہے۔انھوں نے سیلاب زدہ سڑکوں کو صاف کرنے کی کوشش کرتے وقت حکام کو درپیش چیلنجوں پرروشنی ڈالی۔انھوں نے کہا کہ بارش کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود وسائل کو بروئے کارلایاجارہا ہے اور مشینری کے ذریعے سڑکوں اورراستوں کو بحال کیا جارہا ہے۔

انھوں نے نالوں اورقدرتی آبی گزرگاہوں بہ شمول حکومت کی اپنی تنصیبات پرغیر قانونی تعمیرات کو سیلاب کا ذمہ دارقراردیا اور تسلیم کیا کہ شاید صوبائی اتھارٹی کو ایسی عمارتوں کو گرانے میں پیش قدمی کرنا پڑے گی۔

دریں اثنا محکمہ موسمیات نے کراچی، ٹھٹہ، بدین اور حیدرآباد میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھاربارش کی پیشین گوئی کی ہے۔چیف میٹرولوجسٹ سردارسرفراز نے بتایاکہ کراچی شہر میں آنے والا نیا موسمی نظام 18 سے 19جولائی تک جاری رہے گا۔ انھوں نے کراچی، بدین، ٹھٹہ، میرپورخاص اور عمرکوٹ کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں