سپریم کورٹ نے عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری غیر قانونی قرار دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سپریم کورٹ آف پاکستان نے چئیرمین پاکستان تحریک انصاف کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عمران خان کو کل اسلام آباد ہائی کورٹ رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کو فوری طور پر رہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت میں کسی شخص کی پیشی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ سرنڈر کر رہا ہے، اسی لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری غیر قانونی ہے۔

اس سے قبل چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو ساڑھے چار بجے تک عدالت میں پیش کیا جائے۔

تحریک انصاف نے گزشتہ روز عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اپیل کی درخواست گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آج دن دو بجے اس درخواست کی سماعت کا آغاز کیا۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تھے، عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے جب رینجرز کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہوئی، رینجرز نے عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کو گرفتار کیا، عمران خان کو 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 90 افراد عدالت کے احاطہ میں داخل ہوئے توعدالت کی کیا توقیر رہی؟، نیب نے عدالت کی توہین کی ہے، نیب اس قسم کی حرکت پہلے بھی کرچکا ہے، نیب نے ایک ملزم کو سپریم کورٹ پارکنگ سے گرفتار کیا تھا، عدالت نے گرفتاری واپس کروائی اور نیب کے خلاف کاروائی ہوئی تھی، معاملہ عدلیہ کے احترام کا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب کئی سال سے مختلف افراد کے ساتھ یہی حرکتیں کر رہا ہے، اگر ایسے گرفتاریاں ہونے لگیں تو مستقبل میں کوئی عدالتوں پر اعتبار نہیں کرے گا، جب ایک شخص نے عدالت میں سرنڈر کر دیا تھا تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نیازی کو رینجرز نے نیب کی جانب سے القادر ٹرسٹ کیس میں منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گذشتہ روز نیب کی خصوصی احتساب عدالت نے عمران خان کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں