خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کرا سکتے، وفاقی شرعی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سنا دیا کہ خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کرا سکتے۔

خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف درخواست پر قائم قام چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018ء کے سیکشن 2 اور 3 اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، جسمانی خدوخال کے مطابق کسی کو مرد نہیں کہا جا سکتا، ایکٹ کے سیکشن 7 کو بھی غیر اسلامی قرار دے دیا گیا کیونکہ سیکشن 7 کے تحت مرضی سے جنس کا تعین کرکے کوئی بھی وراثت میں مرضی کا حصہ لے سکتا تھا جبکہ وراثت میں حصہ جنس کے مطابق ہی مل سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شریعت کسی کو جنس تبدیلی کی اجازت نہیں دیتی۔ کوئی شخص اپنی مرضی سے جنس تبدیل نہیں کر سکتا۔ جنس وہی رہ سکتی ہے جو پیدائش کے وقت تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خواجہ سرا خود کو مرد یا عورت نہیں کہلوا سکتے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سرا ان تمام بنیادوں حقوق کے مستحق ہیں جو آئین میں درج ہیں، خواجہ سراؤں کی جنس کا تعین جسمانی اثرات پر غالب ہونے پر کیا جائے گا۔ جس پر مرد کے اثرات غالب ہیں وہ مرد خواجہ سرا تصور ہو گا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جنس کا تعلق انسان کی بائیولاجیکل سیکس سے ہوتا ہے۔ نماز، روزہ، حج سمیت کئی عبادات کا تعلق جنس سے ہے۔ جنس کا تعین انسان کی احساسات کی وجہ سے نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام سمیت مختلف تنظیموں کی جانب سے ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018ء کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔

وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خواجہ سرا خود کو مرد یا عورت نہیں کہلوا سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں