مبینہ آڈیولیکس کی تحقیقات: جسٹس قاضی عیسیٰ کی سربراہی میں کمیشن قائم

کمیشن آڈیو ریکارڈ اور لیک کرنے والوں کی نشاندہی بھی کرے: عمران خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے جو مبینہ آڈیو لیکس کی صداقت اور عدلیہ کی آزادی پر پڑنے والے اثرات کی تحقیقات کرے گا۔

بلوچستان کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق بھی اس تین رکنی کمیشن میں شامل ہیں۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوڈیشل کمیشن 30 روز میں مبینہ آڈیوز پر تحقیقات مکمل کرے گا۔

یہ جوڈیشل کمیشن آٹھ مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کرے گا۔ کمیشن آڈیو لیکس کی حقیقت اور عدلیہ کی آزادی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں چھان بین کرے گا۔

بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی سپریم کورٹ کے جج کے ساتھ مبینہ آڈیو لیک ہوئی جبکہ ان کی ایک وکیل کے ساتھ لیک ہونے والی مبینہ آڈیو کے علاوہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پارٹی رہنما مسرت چیمہ کے ساتھ جو میبنہ آڈیو لیک ہوئی سمیت دیگر آڈیوز کی تحقیقات کی جائیں گی۔

آڈیو ریکارڈ اور لیک کرنے والوں کی نشاندہی کا مطالبہ

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ 2017 کے سیکشن تین کے تحت انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے، تاہم جان بوجھ کر اس کے ٹی او آوز میں ایک نکتہ شامل نہیں کیا گیا کہ ان آڈیو لیکس کے پیچھے کون ہے۔

سنیچر کو ایک ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا کہ ’انہوں (وفاقی حکومت) نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ وزیراعظم آفس اور سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججوں کی غیرقانونی نگرانی کے پیچھے کون ہے۔‘ ’کمیشن کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ تحقیقات کرے کہ یہ طاقتور اور نامعلوم عناصر کون ہیں جو اہم شخصیات اور شہریوں کی ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو ریکارڈ کرتے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’یہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت دی گئی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔ ناصرف غیرقانونی طور پر جاسوسی اور فون ریکارڈنگ کرنے والوں بلکہ اسے جعلسازی سے سوشل میڈیا پر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘

’وہ جمہوریتیں جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں ریاست کو اس طرح کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ جب ریاست غیر قانونی طور پر کسی کی جاسوسی کرتی ہے تو آرٹیکل 14 کے تحت دیا گیا پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘

تحریک انصاف کے چیئرمین نے مزید لکھا کہ ’حال ہی میں کچھ کالز وزیر اعظم کے دفتر میں موجود فون لائن سے لیک کی گئیں جسے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غیر قانونی طور پر فون کالز کو ٹیپ کیا گیا اور اس میں رد وبدل کیا گیا۔ یہ کام کرنے والے عناصر وزیراعظم ماتحت ہیں اور نہ ہی اسے ان کا علم ہوتا ہے۔‘

’یہ کون لوگ ہیں جو قانون سے بالاتر ہیں اور ملک کے وزیراعظم کے ماتحت بھی نہیں ہیں، جو آزادی سے غیرقانونی نگرانی کرتے ہیں۔ کمیشن کو اس طرح کے عناصر کی نشاندہی کرنی چاہیے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں