سردیوں کی آمد آمد ہے لیکن خشک میوہ جات کا کاروبار طلب میں اضافے کے برعکس تاریخ ساز مہنگائی سے زوال کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی افراط زر کی شرح نے پہلے ہی عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا کہ زیادہ ٹیکسوں نے خشک میوہ جات کے کاروبار کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
خیبر پختونخوا کے دارالخلافہ پشاور کے اندرون شہر میں اشرف روڈ پر خشک میوہ جات فروخت کرنے والی دکانوں پر مشتمل بازار میں کبھی تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ کچھ سال پہلے یہاں کے خشک میوہ جات کی مارکیٹ میں بھی بہت سی دکانیں تھیں اور ہر طرف گاہکوں کی رونق دکھائی دیتی تھی۔ لیکن اب یہ بازار کسی حد تک سُونا سُونا لگتا ہے۔
ستمبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے۔ اگست کے مہینے کے مقابلے میں تقریبا چار فیصد اضافہ کے ساتھ ماہ ستمبر میں افراط زر31 فیصد تک پہنچ گئی جس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ جیسے جیسے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوا ہے، عوام بھی مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔
پشاور میں خشک میوہ جات کا کاروبار بھی انہیں مسائل سے نبرد آزما ہے۔ پشاور کی ڈرائی فروٹس ایسوسی ایشن کے مطابق ناموافق کاروباری حالات کی وجہ سے گذشتہ دو سالوں کے دوران اندرون شہر میں 500 خشک میوہ جات فروخت کرنے والی دکانوں میں سے 350 دکانیں بند ہو چکی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف نے عرب نیوز کو بتایا، "[دکانیں بند کرنے] کی وجہ مہنگائی میں اضافہ ہے اور حکومت نے طورخم بارڈر اور وانا [افغانستان کے ساتھ سرحد] پر سختی نافذ کر رکھی ہے"۔
محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان کی کل خشک میوہ جات کی درآمدات میں سے 70 فیصد افغانستان جبکہ باقی دیگر ممالک سے منگوائی جاتی ہیں۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ طورخم بارڈر کی نو روز تک بندش سے بھی کاروبار کو نقصان پہنچا۔
یوسف نے کہا، "سرحد پر حکومت کی سختی اور کسٹم ٹیکس کے زیادہ ہونے کی وجہ سے، یہ کاروبار (ڈرائی فروٹ کا) تقریباً ختم ہو چکا ہے ۔
ان حالات کے باعث پشاور میں خشک میوہ جات ہے 500 ہول سیل ڈیلر میں سے اب صرف 150 رہ گئے ہیں۔
اس سال مارچ میں پاکستان نے پھلوں اور خشک میوہ جات سمیت 33 اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کیا۔ یوسف نے کہا، "2015-2016 میں، 6 سے 12 روپے ($0.02-$0.04) فی کلوگرام ٹیکس تھا، اب یہ پچھلے 2 سالوں سے 400 سے 600 روپے ($1.39-2.09) فی کلوگرام تک ہے،" یوسف نے بتایا۔
منڈی میں خشک میوہ جات کے ہول سیل ڈیلر محمد ارشد دن بھر صرف چار خریداروں کو ہی مال بیچ سکے ہیں۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، ’’ہمارا کاروبار بہت متاثر ہوا ہے۔ "اگر میں آپ کو بتاؤں تو یہ دوگنا یا اس سے بھی زیادہ (گزشتہ 2 سالوں میں) متاثر ہوا ہے۔ ارشد نے کہا کہ پستے اب 3,200 روپے ($ 11.5) فی کلو گرام کے حساب سے بک رہے ہیں جو دو سال پہلے 1,200 روپے ($4.8) فی کلوگرام میں بک رہے تھے۔
" کاجو 1,400 روپے ($ 4.88) میں فروخت کی بجائے اب ان کی قیمت 3,000 روپے ($10.46) فی کلو گرام ہے،" انہوں نے کہا۔ "اسی طرح، بادام 1,000 روپے ($3.49) فی کلوگرام سے 2,000 روپے ($6.97) فی کلوگرام میں [بیچ رہے ہیں]۔ "قیمتیں دگنی سے بھی بڑھ گئی ہیں۔"
ارشد جو کہ گذشتہ آٹھ سالوں سے خشک میوہ جات کا کاروبار کر رہے ہیں، اس صورتحال سے انتہائی مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بیرون ملک جانے کے لیے ویزا حاصل کرنا چاہتا ہوں تاکہ کسی دوسرے ملک میں کاروبار کر سکوں۔
اشفاق علی، جو کہ قریبی ضلع چارسدہ سے تعلق رکھتے ہیں نے بتایا کہ وہ خشک میوہ جات اشرف روڈ کی منڈی سے خرید کر فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دکاندار خشک میوہ جات اس قیمت پر نہیں خریدتے جس پر انہیں بالآخر بیچنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال پہلے صورت حال کافی بہتر تھی۔
اشفاق نے عرب نیوز کو بتایاکہ وہ گاہک سے بہت سارے دلائل کے بعد مال فروخت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہو تاکہ وہ کما کر اپنے بچوں کے لیے دال روٹی کا بندوبست کر سکیں۔