سابق نگران وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی بلا مقابلہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان پیپلز پارٹی کے سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیرِ اعلٰی بلوچستان منتخب ہو گئے ہیں۔ سرفراز بگٹی کے مقابلے میں کسی بھی اُمیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے، جبکہ نیشنل پارٹی کے چاروں ارکان اسمبلی نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے کامیابی حاصل کی تھی۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے نامزد وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سرکاری پروٹوکول میں بلوچستان اسمبلی پہنچے تھے۔ دیگر اراکین اسمبلی کے آنے پر سپیکر نے وزیر اعلیٰ کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع کروایا۔ تمام اراکین اسمبلی نے ووٹنگ کے عمل میں شرکت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر سرفراز بگٹی صوبہ بلوچستان کے بلامقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں، مقررہ وقت تک ان کے مد مقابل کسی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔ بلا مقابلہ منتخب ہونے کے باوجود سرفراز بگٹی کے لیے ایوان سے رائے شماری کے ذریعے 33 اراکین کی حمایت حاصل ہونا ضروری تھی، تاہم ان کو 65 میں سے 41 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔

سرفراز بگٹی کو مسلم لیگ ن اور بلوچستان عوامی پارٹی کی بھی حمایت حاصل تھی، سرفراز بگٹی جب کاغذات نامزدگی جمع کرانے آئے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو سب کو ساتھ لیکر چلیں گے اور صوبے کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لیے صرف میر سرفراز بگٹی نے ہی کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے، میر سرفراز بگٹی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے چار فارم جمع کرائے گئے تھے، تمام کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی گئی اور درست پائے گئے۔

انہوں نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد اعلان کیا تھا کہ میر سرفراز بگٹی بلامقابلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے ہیں۔ سرفراز بگٹی کو سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں