'مستقبل ریاض میں ہے': برطانوی-پاکستانی باکسر کی نظر میں ریاض عالمی کھیلوں کا مرکز
2017 سے مسلسل ناقابلِ شکست باکسر ستمبر میں ریاض سیزن میں دوبارہ مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم
رواں ماہ ریاض میں امریکی ریاست وسکونسن کے آسٹن ولیمز کو ایک مقابلے میں شکست دینے والے پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز نے سعودی عرب کے دارالحکومت کی کھیلوں کے حوالے سے تعریف کی اور اسے مستقبل کا عالمی کھیلوں کا مرکز قرار دیا ہے۔
شیراز نے یکم جون کو کوئنز بیری بمقابلہ میچ روم: پانچ بمقابلہ پانچ ایونٹ کے ایک حصے کے طور پر ریاض کے کنگڈم ایرینا میں ایک انتہائی منتظر مڈل ویٹ مقابلے میں ولیمز کو شکست دی۔
اس سال کے آخر میں سعودی دارالحکومت میں دوبارہ مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھنے والے 25 سالہ نوجوان نے کہا ہے کہ ریاض میں لڑنا ایک "حیرت انگیز" تجربہ تھا حالانکہ سعودی مملکت میں ان کا یہ پہلا مقابلہ تھا۔
انہوں نے عرب نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا، "[سعودی عرب کا] بہت بڑا اثر ہے اور یہ صرف باکسنگ پر نہیں۔ ہم یہاں بورڈ کے تمام کھیلوں کی بات کر رہے ہیں۔ ہم فٹ بال کی، سنوکر کی بات کر رہے ہیں۔ ہم یقیناً باکسنگ کی بات کر رہے ہیں۔ ہم یو ایف سی [الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ] بات کر رہے ہیں۔"
نیز انہوں نے کہا، "کھیلوں کے حوالے سے مستقبل ریاض میں ہے۔ میں آئندہ اور مستقبل قریب کے لیے دیکھ رہا ہوں کہ ریاض وہ جگہ ہے جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔"
شیراز ایلفورڈ، لندن میں کھلاڑیوں کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تحصیل کہوٹہ کے گاؤں مٹور سے ہے۔ شیراز کے والد ایک کرکٹر تھے جو گلوسٹر شائر کے لیے کھیلتے تھے جبکہ ان کے دادا اور چچا دونوں باکسر تھے۔ 25 سالہ نوجوان شیراز کے مطابق ان کے چچا نے برطانیہ میں سلو اور پائن ووڈ سٹار کلبز کے لیے دس قومی شوقیہ ٹائٹل بھی جیتے ہیں۔
انہیں باضابطہ طور پر ان کے چچا نے آٹھ سال کی عمر میں باکسنگ سے متعارف کروایا اور 12 سال کی عمر میں ان کا پہلا مقابلہ ہوا تھا۔ ایک پیشہ ور فائٹر بننے سے پہلے انہوں نے برطانیہ میں قومی جونیئر چیمپئن شپ میں تین بار فائنل کھیلا۔
2017 میں انہوں نے فرینک وارن کے کوئنز بیری پروموشنز کے ساتھ بطور پیشہ ور باکسر معاہدہ کیا۔ شیراز نے اسی سال ستمبر میں ڈیبیو کیا اور لندن کے کاپر باکس ایرینا میں بلی جو سانڈرز – ولی منرو جونیئر فائٹ کے انڈر کارڈ پر دوسرے راؤنڈ میں ٹیکنیکل ناک آؤٹ میں ڈوئن گرین کو شکست دی۔ چھے فٹ تین انچ قد کے حامل شیراز ناقابلِ شکست رہے ہیں اور صفر کے مقابلے میں 20 کا قابلِ فخر ریکارڈ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ریاض میں "پرجوش ہجوم" کے سامنے مقابلہ کرنے کا پہلا بہترین تجربہ تھا۔ نیز انہوں نے کہا کہ مسابقت کی اس سطح کا سامنا کرنا اور اشرافیہ درجے میں شامل ہونا قابلِ قدر ہے جہاں ایک فیصد کا فرق بھی اہم ہو سکتا ہے۔
25 سالہ نوجوان نے کہا، "دنیا بھر کے لوگ واقعی دیکھ سکتے ہیں کہ ریاض اور پورا ریاض سیزن واقعی کھیلوں کے عروج کی تصویر کشی کر رہا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کا اور کسی ایسی چیز کا حصہ بننا ہمیشہ اعزاز کی بات ہوتی ہے جہاں مقابلہ بہت زیادہ ہو لیکن انعام اس سے زیادہ ہو۔"
اپنی اگلی لڑائی کے بارے میں سوال پر شیراز نے کہا کہ وہ ستمبر میں ریاض سیزن کے دوران دوبارہ مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ "امید ہے، ہم ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی چیز کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ امید ہے کہ یہ ریاض سیزن کا ایک اور ایونٹ ہوگا۔"
سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (جی ای اے) کے مطابق سالانہ ریاض سیزن فیسٹیول مملکت کے سیاحت اور قومی ورثے کو فروغ دینے کے لیے سعودی سیزن کے اقدام کا حصہ ہے۔ فیسٹیول میں ہر سال لاکھوں لوگ دلچسپ سرگرمیوں اور تقریبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
شیراز نے کہا، سعودی عرب میں ان کی غیر معمولی کارکردگی کے اعزاز میں جی ای اے کے چیئرمین ترکی بن عبدالمحسن آل الشیخ نے دو دیگر باکسرز ٹیرنس کرافورڈ اور جیرڈ اینڈرسن کے ہمراہ ان سے "ریاض سیزن کے سفیر" کے طور پر معاہدہ کیا تھا۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں اب ریاض سیزن کا سفیر ہوں اور یہ ایک مکمل اعزاز ہے۔ میں اس میں شامل لوگوں کا اور عزت مآب [ترکی بن عبدالمحسن آل الشیخ] کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا کہ انہوں نے مجھے منتخب کیا اور میرے لیے ایک ایسا شخص بننا ممکن بنایا جو نہ صرف ان کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس قدر بڑی سطح پر ان کی نمائندگی کرتا ہے۔"
شیراز نے 2022 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل کی جب انہیں باوقار باکسنگ رائٹرز کلب نے 'ینگ باکسر آف دی ایئر' کے طور پر تسلیم کیا۔ لندن کے پشتے پر واقع سیوائے ہوٹل میں کئی سابق عالمی چیمپئن اس ایوارڈ کے وصول کنندہ رہے ہیں۔
مارچ 2022 میں انہوں نے او وی او ارینا، ویمبلے میں بین الاقوامی سلور مڈل ویٹ ٹائٹل کے لیے جیز سمتھ کو شکست دی۔ قبل ازیں، انہوں نے چار مواقع پر سپر ویلٹر ویٹ کیٹیگری میں ڈبلیو بی او یورپی چیمپیئن کے اعزاز کا دفاع کیا تھا۔
پاکستان میں باکسنگ کے بارے میں شیراز نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہت سے عظیم فائٹرز تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے پاس اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے پلیٹ فارم اور مالی مدد نہیں تھی۔
انہوں نے کہا، "امید ہے کہ [میں] ان نوجوان سپر سٹارز کو ریاض لاؤں گا تاکہ وہ یہاں پرفارم کریں۔" نیز انہوں نے کہا کہ ان کا اپنے ملک میں جِم بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ قدرتی جوہر کو بغیر کسی پریشانی کے سامنے آنے میں مدد ملے۔
کیا وہ پاکستان میں مقابلہ کرنا پسند کریں گے، اس سوال پر انہوں نے کہا، "یقیناً میں وہاں واپس آنا پسند کروں گا۔ میں دورے کرنا، یونیورسٹیوں میں جانا، تقریر کرنا، وہاں کے نوجوانوں سے رابطہ کرنا چاہوں گا تاکہ انہیں صحیح سمت میں لے جایا اور دکھایا جائے کہ ایسے مواقع موجود ہیں جو انہوں نے خواب میں بھی نہ دیکھے ہوں گے۔"