پاکستانی فنکارہ کی عرب اور جنوبی ایشیائی ثقافتوں کی واضح، ماورائے حقیقت تصویر کشی

خواتین اور لڑکیوں کو درپیش چیلنجز کی عکاسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

متحرک رنگوں کا استعمال اور جنوبی ایشیائی اور عرب ثقافتوں کی ماورائے حقیقت تصویر کشی: پاکستانی فنکارہ زینب انور کے زبردست کام میں یہ دو خصوصیات بہت نمایاں ہیں جس میں معاشرے میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے پر توجہ دی گئی ہے۔

24 سالہ انور پاکستان میں پیدا ہوئیں اور 8 سال کی عمر میں سعودی عرب منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال دارالحکومت میں گذارے جس دوران منارات ریاض انٹرنیشنل اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ 18 سال کی عمر میں کینیڈا کی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے سعودی مملکت چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد وہ واپس آگئی ہیں۔

ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)
ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)

انہوں نے عرب نیوز کو سعودی مملکت میں قیام اور رہائش کےحوالے سے بتایا، "میں نے یہاں مختلف ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ پرورش پائی ہے۔ البتہ میں نے مختلف ثقافتوں کے خاندانوں کو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے نہیں دیکھا۔ سکول میں جنوبی ایشیائی اور عرب ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے تھے لیکن میں نے میڈیا پر اس کا اظہار نہیں دیکھا۔"

نیز انہوں نے کہا، "میں نے محسوس کیا کہ سکول سے باہر ہمارے معاشرے مکمل طور پر جداگانہ تھے۔ اس کی وجہ سے مجھے مختلف ثقافتوں پر مبنی کام بنانے کا موقع ملا۔ اس طرح میں نے شرقِ اوسط میں جنوبی ایشیائی باشندوں کے تجربات کو کینوس پر منتقل کیا۔"

انور نے اپنے فنی سفر کا آغاز کینوس پر پاکستانی خواتین کو مختلف ماحول میں پیش کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا، "میں نے بعد میں سیاہ فام اور بالوں والی خواتین کو تصویر کرنا شروع کیا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ یہ وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے بھوری خواتین کو شرم دلائی جاتی تھی۔ میں نے سکول میں لڑکیوں کو خوبصورتی کے ان ہی معیارات کی بنا پر ایک دوسرے کو تنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ عرب اور جنوبی ایشیائی لڑکیاں یکساں ہیں۔"

ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)
ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)

ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے دوران آرٹ ان کے جذبات و احساسات کے لیے ایک ذریعۂ اظہار رہا ہے۔

انہوں نے بتایا، "بعد میں میں نے اپنے ذہنی دباؤ اور اضطراب کے ساتھ ہونے والے مشکل احساسات اور تجربات بیان کرنے کے لیے ماورائے حقیقت آرٹ کا استعمال شروع کیا۔ دماغی صحت کے داغ کے ساتھ پرورش پاتے ہوئے مجھے ان جذبات کو سمجھنے میں کئی سال لگے۔ اور اس پر آرٹ بنانے سے مجھے ایسے احساسات سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔"

ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)
ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)

انہوں نے مزید کہا: "مجھے یقین ہے کہ آرٹ مشکل معاملات پر روشنی ڈالنے میں مدد کر سکتا ہے اور ان لوگوں کے لیے سکون کا احساس بھی لا سکتا ہے جو ایسے سماجی مسائل اور ذہنی امراض کا شکار ہیں۔"

"میں نے محسوس کیا کہ تمام خواتین اور لڑکیاں جن تجربات سے گذرتی ہیں مثلاً جنسی ہراسانی اور خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات، معاشرے کو ان سے نمٹنے میں دشواری ہوتی ہے۔"

ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)
ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)

روشن اور رنگین پس منظر انور کے فنکارانہ دستخط یعنی ان کا ایک مخصوص طرزِ فن ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں پینٹنگز میں جن رنگوں کا استعمال کرتی ہوں ان کے لیے ترغیب کا بنیادی ذریعہ پاکستانی ثقافت ہے۔"

"پاکستان میں ٹرک ڈرائیوروں کے زیرِ استعمال آرٹ کی ایک صورت کو ٹرک آرٹ کہا جاتا ہے۔ ٹرک ڈرائیور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ٹرکوں کو روشن اور متضاد رنگوں سے آراستہ کرتے ہیں۔ میں چھوٹی عمر سے ہی ان ٹرکوں کی طرف راغب ہو گئی تھی اور مجھے یقین ہے کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے کام میں چمکدار اور روشن رنگ استعمال کیے ہیں۔"

ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)
ریاض میں مقیم پاکستانی فنکارہ زینب انور کا کام سعودی مملکت میں رہائش کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے جس میں سے بعض فن پارے کام خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں پر مرکوز ہیں۔ (فراہم کردہ/ایڈم سٹوڈیو)

انور کا پورٹ فولیو مختلف طریقۂ اظہار بشمول روشنائی، پنسل، فوٹو گرافی اور کشیدہ کاری جیسے روایتی فن پاروں کے تجرباتی استعمال کی نمائش کرتا ہے۔ کام کے لیے ان کی موجودہ ترجیح ایکریلک پینٹ کا استعمال ہے۔

اگرچہ زینب انور جنوبی ایشیائی اور عرب ثقافت کے پہلوؤں کی تصویر کشی کرتی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ خواتین اس کے فن سے اپنائیت محسوس کرتی ہیں چاہے وہ کہیں سے بھی ہوں۔ "وہ ایک عورت ہونے کے حوالے سے کئی آفاقی تجربات کو سمجھ سکتی ہیں جو میں اپنے کام میں پیش کرتی ہوں۔ لوگ بھی مختلف ثقافتوں پر مبنی کام کی تعریف کرتے ہیں اور اسے ہمارے معاشرے کی عکاسی کے طور پر دیکھتے ہیں۔"

انور کہتی ہیں کہ وہ اپنے کام میں انسانی تجربے کا مکمل احساس بشمول خوشی اور غم بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو "معاشرے کے لیے، فنکار اور ناظرین دونوں کے لیے اہم ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں