پاکستان کے ہیرو ارشد ندیم کا اولمپک میں طلائی تمغہ، آبائی شہر میاں چنوں میں جشن
ارشد ندیم کی 97.92 میٹر کی ریکارڈ ساز تھرو کے ساتھ طلائی تمغے کا 40 سالہ انتظار بالآخر جشن پر اختتام پذیر ہوا
جمعرات کو نصف شب کے قریب اولمپک گیمز کے فائنل میں شریک پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کے گھر کے سامنے درجنوں دیہاتی جمع تھے۔ ان کی نگاہیں ندیم کے فائنل مقابلے اور کسی تمغے کے حصول کی منتظر تھیں۔
صوبہ پنجاب کے چھوٹے سے شہر میاں چنوں کے قریب ان کے کاشتکاری کے گاؤں میں ٹرک کے پیچھے آویزاں ایک سکرین پر ڈیجیٹل پروجیکٹر کے ذریعے یہ پروگرام لوگوں کے لیے براہِ راست پیش کیا گیا۔
پیرس میں جب جیولین اولمپک کے ایک نئے ریکارڈ اور ندیم کے طلائی تمغے کے لیے آواز بلند ہوئی تو ہزاروں کلومیٹر دور پاکستان میں ان کے آبائی علاقے کی فضا دیہاتیوں کے پُرشور اور پُرمسرت نعروں سے گونج اٹھی۔
"انہوں نے زبردست تھرو کی اور تاریخ رقم کی۔ ہمیں ان پر فخر ہے۔" ندیم کے 35 سالہ بھائی محمد عظیم نے کہا۔ مردوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا اور دوسروں نے تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے کیونکہ یہ واضح ہو گیا تھا کہ وہ جیت گئے تھے۔ اس دوران خواتین ندیم کے گھر کے اندر جمع ایک چھوٹے سے ٹی وی کے گرد بیٹھی تھیں۔
ندیم کی والدہ رضیہ پروین نے صاف گوئی سے کہا، "اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اچھا کھیلے گا، بیرونِ ملک جائے گا، تمغہ جیتے گا اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کرے گا۔"
گھسے پٹے آلات کے ساتھ مشق کرنے اور اپنے بین الاقوامی حریفوں کی نسبت ورزش گاہوں اور تربیتی میدانوں تک بہت کم رسائی کے باوجود ندیم نے 32 سالوں میں پاکستان کو پہلا تمغہ دلایا ہے اور وہ بھی طلائی تمغہ۔ قبل ازیں آخری بار پاکستان نے کوئی بھی اولمپک تمغہ 1992 میں جیتا تھا جب ہاکی میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ طلائی تمغہ آخری بار 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں ہاکی میں ہی جیتا تھا۔ ارشد ندیم کا طلائی تمغہ پاکستان کے کسی کھلاڑی کا انفرادی مقابلوں میں اولین طلائی تمغہ ہے۔
قبل ازیں پاکستان کے پاس صرف دو انفرادی تمغے تھے: پہلا 1960 میں ریسلنگ میں محمد بشیر کا کانسی کا تمغہ اور پھر 1988 کے سیول اولمپکس میں باکسنگ میں حسین شاہ نے بھی کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
"ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے اور انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی قومی پرچم بلند کیا۔" ندیم کے سابق کوچ رشید احمد نے کہا جنہوں نے پہلی بار ان کی صلاحیتوں کی نشان دہی کی تھی۔
ایک ریٹائرڈ معمار کے صاحب زادے 27 سالہ ندیم آٹھ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں اور زیادہ تر پاکستانیوں کی طرح سب سے پہلے کرکٹ کی طرف راغب ہوئے۔ ارشد کے بڑے بھائی شاہد ندیم نے کہا، "میں نے ارشد کو ایک ایسے وقت میں کرکٹ سے جیولن کی طرف مائل کیا جب کوئی نہیں جانتا تھا کہ جیولن کیا ہوتا ہے۔"
جب خاندان جشن منا رہا تھا تو انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "وہ اس جیولن کو اولمپکس میں لے گئے، ایک نیا ریکارڈ قائم کیا اور طلائی تمغہ جیتا۔" ریٹائرڈ مقامی سپورٹس اہلکار پرویز احمد ڈوگر نے پیشہ ورانہ تربیت کے حصول میں ندیم کو درپیش مشکلات کے بارے میں اے ایف پی کو بتایا۔
انہوں نے یاد کیا، "کھلاڑی لکڑی کی چھڑیوں کے گرد رسی باندھ کر انہیں استعمال کرتے تھے۔ وہ تو (میدان کے) سرے پر بھی نہیں پہنچیں گی۔" پاکستان کے پاس ٹریک اینڈ فیلڈ کے لیے مناسب میدان نہیں ہے اس لیے کھلاڑیوں کو کرکٹ کے میدان میں ہی تربیت کرنا پڑتی ہے۔
مارچ میں ندیم نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے پاس صرف ایک جیولن تھا جسے وہ گذشتہ سات سالوں سے استعمال کر رہے تھے اور وہ خراب ہو گیا تھا۔ اپنی جیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ندیم نے کہا کہ انہیں جدوجہد کا صلہ مل گیا۔
انہوں نے کہا، جب میں نے جیولن پھینکا اور میرے ہاتھ سے اس کے نکلنے کا احساس ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا یہ اولمپک ریکارڈ ہو سکتا ہے۔ میاں چنوں میں مقامی لوگوں نے ان کی فتح کی خوشی میں جشن منایا۔