پاکستان کے ایران کو شاہین تھری میزائل دینے کی خبروں میں صداقت نہیں: دفتر خارجہ
’’بنگلہ دیش کے حالیہ واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق بھارتی الزامات کو بھی مسترد کرتے ہیں‘‘
پاکستان نے ایران کو شاہین میزائل تھری فراہم کرنے کی میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں غلط ہیں۔
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق یہ مشرق وسطیٰ میں ایک نازک وقت ہے۔ اس لیے ہم تمام فریقوں بشمول میڈیا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جعلی خبروں کو پھیلانے میں ملوث نہ ہوں۔
دفترِ خارجہ کی ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ اسرائیلی اخبار 'یروشلم پوسٹ' کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد ایران کو شاہین تھری میزائل بھیجنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
اس کے جواب میں ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹس پر کوئی توجہ دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ایسی بے بنیاد رپورٹس کے پس پردہ ماخذ اور بدنیتی پر مبنی ایجنڈے پر غور کیا جائے۔
واضح رہے کہ 'یروشلم پوسٹ' اور بعض دیگر اخبارات نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس کے پولیٹیکل سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ایران میں ہلاکت اور پھر ایران کی جانب سے اسرائیل سے بدلہ لینے کے لیے ممکنہ طور پر پاکستان ایران کو اسرائیل تک مار کرنے والا شاہین میزائل فراہم کرے گا۔
شاہین تھری پاکستان کا جدید ترین بیلسٹک میزائل ہے جو زمین سے زمین پر 2750 کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے بریفنگ کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہ سعودی عرب سے متعلق کہا کہ ’اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس میں شرکت کر کے اسرائیل کے غزہ میں جرائم کو بے نقاب کیا۔
’او آئی سی اجلاس ایران اور فلسطین کی درخواست پر بلایا گیا تھا، انہوں نے اسرائیلی بربریت اور جارحانہ منصوبوں کی مذمت کی۔ آسیان اجلاس کے موقعے پر اسحاق ڈار نے رکن ریاستوں اور ممالک کو مبارک باد پیش کی اور اقوام متحدہ، عالمی رہنماؤں اور او آئی سی کو خطوط بھیجے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے غزہ سے محاصرہ اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ مشرق وسطی میں جنگ سے بہر صورت بچا جائے۔‘
’’بنگلہ دیش کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں‘‘
پاکستانی دفتر خارجہ نے بنگلہ دیش کے حالیہ واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق بھارتی الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔
اس ضمن میں بریفنگ میں کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ’’کہ یہ بیانات بھارت کی پاکستان سے تشویشناک مخاصمت کے عکاس ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاسی رہنما اور ان کے ذرائع ابلاغ اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی میں ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانے کے عادی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مثبت روابط ہیں جو گزشتہ کئی سال سے مضبوط تر ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان اور عوام نے بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے، ہم حالات کے پرُامن ہونے اور معمول پر آنے کے لیے مخلصانہ طور پر پُرامید ہیں۔ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام کا جذبہ اور اتحاد ایک ہم آہنگ مستقبل کی طرف گامزن ہوگا۔
واضح رہے کہ ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بیان بھارت کی طرف سے ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے جن میں بنگلہ دیش کی حکومت کے خاتمے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
آصف مرچنٹ
بریفنگ میں ممتاز زہرا بلوچ نے امریکہ میں آصف مرچنٹ نامی ایک پاکستانی شہری کو مبینہ طور پر ’امریکی سرزمین پر سیاست دانوں کے قتل کی منصوبہ بندی‘ کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے معاملے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’پاکستان نے اس ضمن میں امریکی ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔ اس کیس سے متعلق پیش رفت کی تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔ گرفتار شخص کی شہریت کی تصدیق اور امریکی جواب کے بعد کوئی بات کریں گے۔‘
امریکی محکمہ انصاف نے دو روز قبل 46 سالہ پاکستانی شہری کی امریکہ میں کسی سیاسی شخصیت یا حکومتی اہلکار پر مبینہ حملے کی سازش کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی ہے۔
امریکی تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آصف رضا مرچنٹ نامی پاکستانی شہری ایران کے ایما پر امریکہ میں جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور اس کے لیے آصف مرچنٹ نے امریکہ میں کرائے کے قاتل بھی بھرتی کیے۔‘
امریکی پروسیکیوٹرز کی جانب سے یہ معاملہ اس وقت امریکہ کی عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں پراسیکیوٹرز کی جانب سے ایف بی آئی اہلکار کی تفصیش کا کچھ حصہ منظر عام پر آیا۔
ادارے کے سپیشل ایجنٹ کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وہ شہر نیو یارک میں واقع ایف بی آئی کے دفتر سے منسلک ہیں۔