کراچی میں گلوبل کوزین شو کاانعقاد: پاکستان کوشرقِ اوسط کےخریداروں کومائل کرنے کی توقع
پاکستان کی 'فوڈ ڈپلومیسی' کے تحت ہونے والے پروگرام میں 15 ممالک کے خانساماں شریک
جمعہ کے روز ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے کراچی میں کھانے کے دوسرے عالمی شو کا آغاز کیا جس میں شرقِ اوسط اور دنیا کے دیگر حصوں سے خریداروں کو راغب کرنے کے لیے مقامی اجزاء اور مصنوعات کی نمائش کی گئی۔
تین روزہ شو ٹی ڈی اے پی کی بین الاقوامی خوراک و زراعت نمائش 2024 کا حصہ ہے اور اس میں دنیا کے مختلف حصوں کے باورچی مجتمع ہیں تاکہ پاکستانی اجزاء کا استعمال کرتے ہوئے متنوع کھانے تیار کیے جائیں۔
ایکسپو سینٹر کراچی میں ہونے والی تقریب کے پہلے روز بحرین، جنوبی افریقہ، مصر، انڈونیشیا، مالدیپ اور سنگاپور کے ماہرینِ طباخی نے پاکستانی اجزا کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کے پکوان باری باری تیار کیے اور پھر یہ پکوان دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے حاضرین کو پیش کیے گئے۔
ٹی ڈی اے پی کی اسسٹنٹ منیجر اقراء الیاس نے جمعہ کو عرب نیوز کو بتایا،"شرقِ اوسط ہمارے لیے بہت اہم مقام ہے کیونکہ ہمارے تارکین وطن اس خطے میں ہیں۔ ہماری زرعی غذائی برآمدات کا بڑا حصہ شرقِ اوسط کو جاتا ہے۔"
نیز انہوں نے کہا، "ہمارے پاس تقریباً 200 خریدار ہیں جو شرقِ اوسط، سعودی عرب اور پورے خلیج سے آرہے ہیں۔ ہم اپنے شرقِ اوسط کے خریداروں سے مزید مثبت ردِ عمل کے منتظر ہیں۔"
بحرین سے تعلق رکھنے والی شیف زہرہ حسین نے کہا کہ وہ اس شو کا حصہ بننے کے لیے "بہت پرجوش" تھیں اور پاکستان میں ان مہربان لوگوں اور اعلیٰ معیار کے اجزاء دیکھ کر انہیں تعجب ہوا۔
انہوں نے کہا، "یہ میرا پاکستان کا پہلا دورہ ہے لیکن مجھے بہت مانوس اور دوستانہ احساس ہو رہا ہے کیونکہ بحرین میں کئی پاکستانی ہیں۔ وہ لوگ بہت مہربان ہیں۔ لیکن یہاں نہ صرف مہربان بلکہ دوستانہ، پیارے اور مددگار لوگ ہیں۔"
حسین نے کہا کہ وہ عرب ثقافت خاص طور پر روایتی بحرینی کھانوں میں سے کچھ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
انہوں نے کہا، "میں کوئی میٹھی چیز تیار کرنا چاہتی ہوں کیونکہ بحرین میں جب ہم کسی سے پیار کرتے ہیں تو ہم انہیں اہم کھانے سے پہلے مٹھائیاں اور کافی پیش کرتے ہیں۔ میں ساگو [حلوہ] بناؤں گی۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہ پاکستان اور ہندوستان کی ثقافت سے ہم آہنگ ہے۔ وہ الائچی، زعفران اور عرقِ گلاب کا استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے مجھے آپ کی ثقافت کے قریب جانا ہو گا تاکہ اسے ہماری ثقافت کے قریب لایا جا سکے۔"
گلوبل کوزین شو کا پہلا ایڈیشن گذشتہ سال اسی وقت اور اسی مقام پر ہوا تھا۔
شو کے منتظمین کے مطابق 15 بین الاقوامی باورچیوں کی تیار کردہ تراکیب میں استعمال ہونے والے تمام اجزاء پاکستان کے ہیں۔ باورچی اپنے ساتھ صرف تراکیب لائے ہیں۔
مصر سے تعلق رکھنے والے شیف ابراہیم غوث جو اس وقت سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، نے عالمی شو میں امریکی طرز کی چیوئی کوکیز بنانے کا فیصلہ کیا۔
ترکیب کے اجزاء کو یکجا کرتے ہوئے انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں یہاں مصری اور کچھ بین الاقوامی قسم کا [کھانا] بنانے آیا ہوں۔ میں ایک پیشہ ور بیکر ہوں لیکن چونکہ میرے پاس ایک کاریگر بیکری سے کچھ بنانے کے لیے کافی وقت نہیں ہے تو میں نے کوکیز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ آسانی اور تیزی سے بن جاتی ہیں اور لذیذ ہوتی ہیں۔"
غوث یورپی طرز کی بیک کر کے بنائی گئی چیزوں میں جدت کے لیے مشہور ہیں جبکہ انھوں نے قدیم عرب روٹیوں پر بھی تحقیق کی ہے۔
جہاں ان غیر ملکی باورچیوں نے اپنے اپنے ممالک کے کھانے پیش کیے، وہیں پاکستانی کھانے کے سٹال غیر ملکی مندوبین کے لیے توجہ کا مرکز بنے رہے۔
ٹی ڈی اے پی کی اسسٹنٹ مینیجر اقراء الیاس نے کہا، "یہ ہمارے کھانے اور ہماری ثقافت کی تشہیر کے لیے ایک بہت اچھا پروگرام ہے، یہ ہمارے لیے طباخی سفارت کاری کی طرح ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہمارا بنیادی مقصد زرعی برآمدات اور تجارت کو بڑھانا ہے اور گلوبل کوزین شو ان ذرائع میں سے ایک ہے جو یہ حاصل کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔ اس سے گذشتہ سال بھی ہمیں مدد ملی تھی۔ خریداروں نے ہم سے کئی استفسارات کیے تھے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس سے ہماری مستقبل کی زرعی غذائی تجارت کی راہ ہموار ہو گی۔"
-
وادی تیراہ میں دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ؛ پاکستان فوج کے تین جوان جاں بحق
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں تین مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز اور ...
پاكستان -
پاکستان کے ایران کو شاہین تھری میزائل دینے کی خبروں میں صداقت نہیں: دفتر خارجہ
’’بنگلہ دیش کے حالیہ واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق بھارتی الزامات کو بھی مسترد ...
پاكستان -
غزہ سکول پر بمباری اسرائیلی سفاکیت کی انتہا ہے: وزیر اعظم پاکستان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنی سفاکانہ کارروائیوں کی تمام ...
پاكستان